آپریشن سندور کی ناکامی چھپانے کیلئے بھارت کا نیا فالس فلیگ کھیل بے نقاب
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آپریشن سندور کی ناکامی نے بھارتی پالیسی سازوں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے
بھارت کی مبینہ عسکری ناکامی اور سفارتی دباؤ کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا کرنے کی کوششوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد نریندر مودی کی حکومت شدید دباؤ اور سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت اور اس سے منسلک میڈیا، جسے ناقدین گودی میڈیا قرار دیتے ہیں، مسلسل پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں۔ کبھی پاکستان کی معیشت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کبھی اس کی سفارتی کوششوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را ایک بار پھر انتخابات سے قبل پرانی حکمت عملی اپناتے ہوئے مبینہ “فالس فلیگ” کارروائیوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مغربی بنگال اور آسام سمیت مختلف ریاستوں میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے ایسے اقدامات زیر غور ہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیردفاع اور وزیرخارجہ کے حالیہ بیانات کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پاکستان کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ بیانات محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی مہم کا حصہ ہیں۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر بھی را سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے پاکستان کے ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بھارتی جیلوں میں قید افراد کو مبینہ طور پر ایسے ڈراموں کیلئے استعمال کرنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈے استعمال کر چکا ہے، مگر اب دنیا ان حربوں سے بخوبی آگاہ ہے اور کسی بھی یکطرفہ بیانیے کو آسانی سے قبول نہیں کرے گی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق “آپریشن سندور” کی ناکامی نے بھارتی پالیسی سازوں کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے، اور اسی وجہ سے پاکستان مخالف جذبات بھڑکا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت، مؤثر اور فیصلہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ خطے میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔