امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج قوم سے اہم خطاب کریں گے
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف نے کہا کہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے جبکہ وہ آج رات قوم سے اہم خطاب بھی کریں گے جس میں صورتحال پر بڑا اپڈیٹ متوقع ہے۔
امریکی صدر کا یہ خطاب رات 9 بجے مشرقی وقت کے مطابق ہوگا، جسے عالمی سطح پر نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ہزاروں میرینز اور بحریہ کے اہلکار تعینات کر دیے ہیں، جو ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے کہا ہے کہ آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے اور ایران کے پاس فوجی طور پر زیادہ آپشنز باقی نہیں رہے۔
ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے مگر خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف نے کہا کہ امریکہ کی نیت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ادھر عالمی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں اور توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیٹو کو کاغذی اتحاد قرار دیا اور عندیہ دیا کہ امریکہ اس سے الگ ہونے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے برطانیہ اور دیگر ممالک کو طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ خود اپنی تیل سپلائی کا بندوبست کریں۔
آئرلینڈ کے نائب وزیر اعظم سائمن ہیرس نے خبردار کیا ہے کہ مزید دو سے تین ہفتے کی جنگ عالمی معیشت اور انسانی صورتحال کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔
