ایران کے سعودی ایئر بیس پر حملے میں 15 امریکی فوجی زخمی، پانچ کی حالت تشویشناک
گزشتہ روز ایران کی جانب سے پرنس سلطان ایئر بیس پر 6 بیلسٹک میزائل اور 29 ڈرون داغے گئے تھے
ایران کی جانب سے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملے میں کم از کم 15 امریکی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز ایران کی جانب سے کیے گئے اس حملے میں کم از کم 6 بیلسٹک میزائل اور 29 ڈرون استعمال کیے گئے تھے، زخمی فوجیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
دی وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق فوجی اس وقت بیس کی عمارت کے اندر موجود تھے جب حملہ ہوا۔ شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ کم از کم 12 فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے دو کی حالت سنگین ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ہفتہ کو جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ ایرانی حملے میں ایک ایندھن بھرنے والا طیارہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ تین دیگر طیارے بھی متاثر ہو کر غیر فعال ہوگئے ہیں۔
ایران کے انگلش نیوز چینل پریس ٹی وی نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں، جن میں ایئر بیس پر متعدد طیاروں کے نقصان کی تصدیق ہوئی۔ بیس کو اس ہفتے پہلے بھی دو مرتبہ نشانہ بنایا جاچکا ہے، جس میں 14 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ پرنس سلطان ایئر بیس سعودی دارالحکومت ریاض سے تقریباً 96 کلومیٹر دور ہے اور اسے سعودی رائل ایئر فورس چلاتی ہے، لیکن امریکی افواج بھی استعمال کرتی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی حملوں کے بارے میں شفافیت بہت کم ہے، مگر زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد سے حملے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس پر عام طور پر 2,000 سے 3,000 امریکی فوجی موجود ہوتے ہیں جو زیادہ تر میزائل دفاعی نظام اور لاجسٹک سپورٹ کے آپریشن سرانجام دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سات خلیج میں اور 6 عراق میں مارے گئے ہیں، جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
