مشرق وسطیٰ بحران، چیمبرز آف کامرس نے بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کر دی
حکومت فوری طور پر توانائی کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کرے، ایف پی سی سی آئی
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے توانائی بحران پر بڑا مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایندھن اور توانائی کی بچت ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے پوری قوم کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ بجلی کے شعبے میں حقیقی ریلیف اسی وقت ممکن ہے جب حکومت فوری طور پر آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام کے تحت چاہے بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، ادائیگیاں بہرحال کرنا پڑتی ہیں، جو معیشت پر بھاری بوجھ ہے۔
ثاقب فیاض نے موجودہ صورتحال کو “جنگی حالات” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی صورتحال میں فورس میجر کی شق کے تحت معاہدے معطل یا ختم کیے جاتے ہیں، لہٰذا پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی غیر ملکی سپلائرز پہلے ہی پاکستانی کاروباری افراد کے ساتھ اپنے معاہدے منسوخ کر چکے ہیں، حتیٰ کہ صنعتی خام مال کے سودے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر توانائی کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کرے، جنگی حالات کے بعد نئے سرے سے بہتر شرائط کے ساتھ معاہدے کیے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے۔
