اقوام متحدہ میں ایرانی حملوں کے خلاف عرب ممالک کی پیش کی گئی قرارداد منظور
قرارداد میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔
انسانی حقوق کونسل میں خلیجی ممالک اور اردن کی جانب سسے پیش کی گئی اس قرارداد کو ہنگامی اجلاس میں منظور کیا گیا، قرارداد کو 100 سے زائد ممالک کی حمایت حاصل رہی۔
متحدہ عرب امارات ( یو اے ای) کی وزارت خارجہ کے مطابق قرارداد میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی گئی۔
مزید پڑھیں: امریکی حملے میں اسکول کی 160 بچیوں کی شہادت، اقوام متحدہ نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حملے ایسے ممالک پر کیے گئے ہیں جو کسی تنازع کا حصہ نہیں تھے، جو بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں رکاوٹ کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
مزید کہا گیا کہ بڑھتی کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔
قرارداد میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے اور اشتعال انگیز اقدامات بند کرے۔
