ایران کے خلاف حملوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا انکشاف
اس پلیٹ فارم میں کلاؤڈ نامی اے آئی ماڈل بھی شامل ہے
امریکا نے ایران پر حملوں کے دوران اہداف کی نشاندہی کے لیے جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ماوین اسمارٹ سسٹم استعمال کیا، جس کی مدد سے پہلے ہی دن تقریباً 1000 اہداف کی نشاندہی کی گئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ سسٹم سیٹلائٹس اور دیگر خفیہ ذرائع سے حاصل ہونے والے بڑے پیمانے کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے کمانڈرز کو حقیقی وقت میں اہداف کی نشاندہی اور ترجیحی فہرست فراہم کرتا ہے۔
اس پلیٹ فارم میں کلاؤڈ نامی اے آئی ماڈل بھی شامل ہے جو امریکی فوجی منصوبہ بندی کو تیز بنانے میں مدد دیتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی بدولت فوجی حکمت عملی تیار کرنے کا عمل ہفتوں سے کم ہو کر تقریباً فوری فیصلوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ یہ سسٹم حملوں کے بعد نتائج کا تجزیہ بھی کرتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی پہلا موقع ہے جب اس اے آئی ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے کی جنگی کارروائی میں استعمال کیا گیا، تاہم پینٹاگون اور ٹیکنالوجی کمپنی کے درمیان اختلافات کے باعث اس کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔
