افغان طالبان رجیم میں افغانستان خواتین کے حقوق کے حوالے سے بدترین ملک قرار
افغان طالبان رجیم میں ہر پانچ میں سے ایک افغان خاتون تشدد کا شکار ہے
افغان طالبان رجیم کے غاصبانہ دور میں خواتین انتہائی غیر محفوظ ہیں جبکہ تشدد میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
افغان طالبان رجیم کی پسماندہ پالیسیوں نے خواتین کو تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولیات سے محروم کر دیا ہے۔
افغان انٹرنیشنل جریدہ نے جارج ٹاؤن انسٹی ٹیوٹ امریکا کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عالمی خواتین انڈیکس میں افغانستان 181 ممالک میں آخری نمبر پر آگیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان رجیم میں ہر پانچ میں سے ایک افغان خاتون تشدد کا شکار ہے، افغان طالبان کے نئے فوجداری قوانین بھی خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان ریجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے افغانستان کو اس نچلی سطح تک پہنچا دیا ہے، انصاف تک محدود رسائی اور سیاسی عمل میں خواتین کی مکمل غیر موجودگی نے افغانستان کو عالمی سطح پر تنہا کردیا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ افغان طالبان ریجیم کی پالیسیوں نے نہ صرف خواتین کے حقوق بلکہ ملک کی معیشت اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
