ایپسٹین فائلز کا ایک اور وار، ورلڈ اکنامک فورم کے طاقتور سی ای او بھی مستعفی
برینڈی نے ایپسٹین کے ساتھ تین کاروباری عشائیوں میں شرکت کی تھی
عالمی سطح پر ہلچل مچ گئی جب ورلڈ اکنامک فورم کے صدر اور سی ای او بورج برینڈی نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ پیشرفت اُن رپورٹس کے بعد سامنے آئی جن میں ان کے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ای میلز اور ٹیکسٹ پیغامات کے تبادلے کا انکشاف ہوا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق برینڈی نے ایپسٹین کے ساتھ تین کاروباری عشائیوں میں شرکت کی تھی اور ان کے درمیان پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
تاہم اپنے استعفے کے بیان میں برینڈی نے ایپسٹین کا نام لینے سے گریز کیا اور کہا کہ انہوں نے غور و فکر کے بعد عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ فورم اپنی سرگرمیاں بغیر کسی توجہ ہٹانے والے معاملے کے جاری رکھ سکے۔
فورم کے شریک چیئرز آندرے ہوفمین اور لیری فنک نے مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ ایلائس زاونگی عبوری صدر اور چیف کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ برینڈے کے ایپسٹین سے روابط کے حوالے سے بیرونی قانونی مشیروں کی سربراہی میں آزادانہ تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔
برینڈی 2017 سے ورلڈ اکنامک فورم کی قیادت کر رہے تھے اور ڈیووس میں ہونے والے سالانہ اجلاس کو عالمی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ استعفے میں ایپسٹین کا ذکر شامل نہیں تھا، مگر مبصرین کے مطابق اس معاملے نے عالمی ادارے کی ساکھ پر سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو “دباؤ کا نتیجہ” قرار دیا جا رہا ہے۔