فروری پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے شدید مندی کا مہینہ قرار
ماہرین کے مطابق فروری میں مجموعی طور پر 24 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی
فروری کا مہینہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے نمایاں مندی کا باعث بنا، جس دوران مارکیٹ میں بھاری گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق فروری میں مجموعی طور پر 24 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی، جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں تقریباً 2.4 ٹریلین روپے کی کمی دیکھی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال میں کسی ایک مہینے میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے، اسٹاک مارکیٹ نے 6 نفسیاتی حدیں کھودیں
اسٹاک ماہرین کے مطابق کاروباری سرگرمیوں میں تقریباً 13 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ نقصان ان افراد کو ہوا جنہوں نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران سرمایہ کاری شروع کی تھی۔
مندی کی وجوہات میں کمپنیوں کے مالیاتی نتائج کا توقعات سے کم ہونا اور خطے کی مجموعی صورتحال کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی اور علاقائی غیر یقینی کیفیت نے بھی مارکیٹ پر اثر ڈالا ہے۔
دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات شروع ہونے کے بعد پہلی بار مالی گنجائش (فسکل اسپیس) میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، جو آئندہ دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
