آئی ایم ایف کا 15 روزہ جائزہ مشن آج پاکستان پہنچے گا
حکومت کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست بھی زیر غور ہے
آئی ایم ایف کا تقریباً 15 روزہ جائزہ مشن آج پاکستان پہنچ رہا ہے، جو 11 مارچ تک قیام کرے گا اور معاشی اہداف کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں مذاکرات کراچی میں جبکہ دوسرا مرحلہ 2 مارچ سے اسلام آباد میں ہوگا۔ مشن مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریونیو کے سوا آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ایف بی آر کو پہلے چھ ماہ میں 329 ارب روپے جبکہ سات ماہ میں 372 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس پر مشن کو بریفنگ دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: 2030 تک پاکستانی برآمدات کے حوالے سے آئی ایم ایف کی بڑی پیشگوئی
حکومت کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک، گورننس، اینٹی کرپشن اقدامات، نیب اور اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ایف بی آر کے انسدادِ بدعنوانی سیل کو مزید مضبوط بنانے، سرکاری افسران کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحاتی ایکشن پلان پر بھی بات چیت ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پرائمری فسکل سرپلس جی ڈی پی کے تقریباً 1.3 فیصد کے برابر حاصل کیا جا چکا ہے جبکہ صوبوں نے مجموعی طور پر 1180 ارب روپے کا کیش سرپلس دیا۔ صوبائی ٹیکس اہداف پورے ہوئے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا اور زرمبادلہ ذخائر پروگرام کے ہدف سے بہتر سطح پر برقرار ہیں۔
جولائی تا نومبر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ شعبے میں تقریباً 6 فیصد گروتھ رپورٹ ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ سیلاب سمیت مشکلات کے باوجود قرض پروگرام آن ٹریک ہے۔
یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کا حصہ ہے، جن کا مجموعی حجم 8.4 ارب ڈالر بنتا ہے۔ دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔
