مودی کی انتہا پسند پالیسیوں سے کشمیری طلبا عدم تحفظ کا شکار
بھارت میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کے حوالے سے تشویش ناک صورتحال سامنے آئی ہے
بھارت کی انتہا پسند اور ہندو توا مودی حکومت کے مظالم کے نتیجے میں کشمیری طلبا عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔
اس سلسلے میں بھارت میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کے حوالے سے تشویش ناک صورتحال سامنے آئی ہے۔
بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق عدم تحفظ اور مبینہ امتیازی سلوک کے باعث ریاست اتراکھنڈ میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتراکھنڈ میں کشمیری طلبہ کی تعداد تقریباً 6 ہزار سے کم ہو کر 2 ہزار رہ گئی ہے، جو کہ 67 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اخبار نے اس کمی کی ایک بڑی وجہ عدم تحفظ اور سماجی دباؤ کو قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں صحافت پر شب خون، مودی کی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ آشکار
مزید کہا گیا ہے کہ 2019 کے پلوامہ حملہ کے بعد سے کشمیری طلبہ اور تاجروں کے ساتھ ہراسانی اور حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث خوف کی فضا قائم ہوئی ہے۔
بعض مبصرین کے مطابق ان واقعات نے دیگر ریاستوں میں بھی کشمیری طلبہ کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔
ماہرین کی رائے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ہندوتوا نظریے کے تحت پالیسی سازی کر رہی ہے، جس کے باعث مذہبی اور نسلی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔
تاہم حکومتی مؤقف یہ رہا ہے کہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کے حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو سیاسی تنازعات سے بالاتر رکھتے ہوئے ان کے تحفظ، مساوی مواقع اور بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔