جعلی ڈگریوں کا اثر یا سفارتی ناکامی؟ بھارتی طلبہ کا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا خواب بن گیا

جعلی ڈگریوں کا اثر یا سفارتی ناکامی؟ بھارتی طلبہ کا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا خواب بن گیا

کئی مغربی ممالک نے ویزا قوانین سخت کر دیے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارتی طلبہ پر پڑا

بھارت میں اعلیٰ تعلیم کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے جانے والے بھارتی طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی نے حکومتی پالیسیوں اور تعلیمی نظام کی کارکردگی پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ا

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں غیر ملکی جامعات کا رخ کرنے والے طلبہ کی تعداد میں تقریباً 31 فیصد کمی آئی۔ معروف انڈین چینل  کے مطابق یہ کمی مسلسل رجحان اختیار کر چکی ہے، جبکہ ایک اخبار نے انکشاف کیا کہ یہ تعداد 9 لاکھ 8 ہزار سے گھٹ کر صرف 6 لاکھ 26 ہزار رہ گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار بھارتی وزیرِ تعلیم کی جانب سے راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں پیش کیے گئے، جس سے اس کمی کی سرکاری سطح پر تصدیق بھی ہو گئی۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی مغربی ممالک نے ویزا قوانین سخت کر دیے ہیں، جس کا براہِ راست اثر بھارتی طلبہ پر پڑا۔

جعلی داخلوں اور ڈگریوں کے اسکینڈلز نے بین الاقوامی اعتماد کو متاثر کیا۔بعض ممالک میں بھارتی نیٹ ورکس سے متعلق خدشات کے باعث نگرانی سخت کی گئی۔

امریکا کے مشہور H-1B visa program سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند نوجوان بھی غیر یقینی پالیسیوں اور سخت شرائط کے باعث پریشانی کا شکار ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر تعلیمی معیار، شفافیت اور سفارتی حکمتِ عملی میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو عالمی تعلیمی منڈی میں بھارت کا مقام مزید کمزور ہو سکتا ہے۔

Related posts

ساقر غوباش اور جرمن رکن پارلیمان نے علاقائی کشیدگی اور سلامتی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔

ملکی درآمدات بند؛ سونا مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

دبئی آر ٹی اے نے ہیسا اسٹریٹ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کھول دیا، سفر کے وقت کو چار منٹ تک کم کر دیا۔