پرتگال کا بڑا فیصلہ: کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مشروط پابندی
اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن استحصال، سائبر بُلیئنگ اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے
پرتگال نے بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق نیا قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت نوعمر صارفین کے لیے سخت شرائط متعارف کرا دی گئی ہیں۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مسودۂ قانون کو واضح اکثریت حاصل ہوئی، جہاں 148 اراکین نے حمایت میں ووٹ دیا جبکہ 69 نے مخالفت کی اور 13 ارکان رائے شماری سے غیر حاضر رہے۔ یہ قانون ابھی حتمی مرحلے سے گزرے گا اور اس میں مزید ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں۔
کن بچوں پر کیا پابندی ہوگی؟
نئے قانون کے مطابق:
13 سے 16 سال کے بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی صرف اس صورت میں ملے گی جب والدین باضابطہ اجازت دیں۔
13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا، ویڈیو اور تصویر شیئرنگ ایپس اور آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارمز پر پہلے سے عائد پابندی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن استحصال، سائبر بُلیئنگ اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔
اجازت کیسے دی جائے گی؟
والدین کو اجازت دینے کے لیے سرکاری ڈیجیٹل نظام ڈیجیٹل موبائل کی (DMK) استعمال کرنا ہوگا، جو پرتگال کی سرکاری شناختی تصدیق کا نظام ہے۔ اس کے ذریعے والدین اپنی شناخت کی توثیق کر کے بچوں کے اکاؤنٹس کی منظوری دے سکیں گے۔
کمپنیوں کے لیے سخت پیغام
قانون میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی واضح ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمر کی درست تصدیق کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام وضع کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے اور دیگر قانونی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یورپ میں کم عمر صارفین کے تحفظ کے حوالے سے قانون سازی کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور پرتگال کا یہ اقدام دیگر ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔