کاربوہائیڈریٹس ہماری غذا کا ایک لازمی جزو ہیں، جو توانائی فراہم کرنے اور مجموعی صحت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم آپ کی روزمرہ خوراک میں زیادہ تر غذا کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہے، تو ایسی صورت میں جسم کچھ علامات ظاہر کرتا ہے۔
اگر آپ نے گزشتہ کچھ دنوں سے اپنے وزن، توانائی یا موڈ میں کوئی نمایاں تبدیلی محسوس کی ہے، تو یہ کاربز کی زیادتی کی جانب سے ایک انتباہی اشارہ ہو سکتا ہے۔ یہاں پر ایسی ہی پانچ کا علامات ذکر کیا جارہا ہے۔
بار بار بھوک کا احساس
اگر کھانے کے فوراً بعد آپ دوبارہ کچھ کھانے کی خواہش محسوس کرتے ہیں، تو یہ زیادہ تر ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس جیسے سفید آٹا، سفید چاول یا میٹھی اشیاء کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ یہ غذائیں تیزی سے ہضم ہو کر خون میں شوگر کی سطح بڑھاتی ہیں، لیکن جیسے ہی شوگر کی سطح کم ہوتی ہے، آپ کو دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔
توانائی میں کمی
اگر کھانے کے بعد آپ کو تھکن، سستی یا نیند کا احساس ہو، تو یہ خون میں گلوکوز کی سطح میں اچانک اضافے اور پھر کمی کے باعث ہو سکتا ہے۔ اس سے آپ کی جسمانی توانائی متاثر ہوتی ہے اور ذہنی تھکن، سستی یا نیند آنا شروع ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاربوہائیڈریٹس اور ہائی کاربوہائیڈریٹس صحت کے لیے فائدے مند یا نقصان دہ؟
وزن میں تیزی سے اضافہ
اگر آپ کا وزن بغیر کسی واضح وجہ کے بڑھ رہا ہے یا آپ کا لباس تنگ محسوس ہو رہا ہے، تو یہ اضافی کاربوہائیڈریٹس کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ جسم میں استعمال نہ ہونے والے کاربوہائیڈریٹس چربی کی صورت میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب آپ کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوں۔
مزاج میں بار بار تبدیلیاں
اگر آپ کے مزاج میں اچانک تبدیلی، بے چینی یا چڑچڑاپن آ رہا ہو، تو یہ بھی زیادہ کاربز کے استعمال کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس خون میں گلوکوز کی سطح کو غیر مستحکم کرتے ہیں، جس کا اثر آپ کے ذہنی اور جذباتی حالت پر پڑتا ہے۔
جلد پر منفی اثرات
اگر آپ کی جلد پر دانے، مہاسے یا سوزش کی شکایات بڑھ رہی ہیں، تو یہ آپ کی خوراک میں میٹھے اور پراسیسڈ کاربز کے اضافے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ یہ غذائیں انسولین کی سطح کو بڑھا کر جلد کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جسم بہتر محسوس کرے اور توانائی سے بھرپور رہے، تو اپنی غذا میں توازن لائیں۔ قدرتی، فائبر سے بھرپور، پروٹین اور صحت مند چکنائی والی غذاؤں کو ترجیح دیں تاکہ نہ صرف آپ کا جسم بلکہ ذہن بھی صحت مند رہے۔

