آئی سی سی نے بدھ کو اپنی بورڈ میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش انڈیانہ جانے پر مصر رہتا ہے تو اسے ٹورنامنٹ سے باہر کردیا جائے گا اور اسکاٹ لینڈ کو بنگلہ دیش کی جگہ شامل کرلیا جائے گا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش نے آئی سی سی کے اس حتمی فیصلے پر اپنی حکومت سے بات کرنے کے لیے ایک دن کی مہلت مانگ لی ہے جسے آئی سی سی نے مشروط طور پر منظور کرلیا ہے کہ اس کے بعد کوئی مہلت نہیں ملے گی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی بورڈ کا ہنگامی اجلاس پی سی بی کے خط کے بعد طلب کیا گیا تھا جس میں تمام مستقل 15 ارکان نے شرکت کی جبکہ ایسوسی ایٹ ارکان میں سے سنگاپور بورڈ کے سی ای او عمران عثمانی کے علاوہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ نے بھی شرکت کی جو گزشتہ ایک ہفتہ سے بنگلہ دیش میں تھے اور بنگلہ دیشی بورڈ کو انڈیا جانے پر قائل کررہے تھے۔
پی سی بی نے بنگلہ دیش کے ساتھ یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئی سی سی سے بنگلہ دیش کے مسئلے پر بورڈ ارکان کی رائے لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
بورڈ کی میٹنگ میں اکثریتی رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ انڈیا میں سیکیورٹی کے مسائل اس قدر سنگین نہیں ہیں کہ بنگلہ دیش ٹیم جانے سے انکار کرے میٹنگ میں آئی سی سی کے سی ای او نے واضح کیا کہ بنگلہ دیش سے مسلسل رابطہ ہے اور انہیں سیکیورٹی کے تمام انتظامات سے آگاہ کیا جارہا ہے لیکن بنگلہ دیش بورڈ اس پر آمادہ نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق بورڈ کی میٹنگ میں پی سی بی نے بنگلہ دیش کی مکمل حمایت کی اور انڈیا کی صورتحال کو خوفناک قرار دیا لیکن پی سی بی کے علاوہ کسی بورڈ نے بنگلہ دیش کی حمایت نہیں کی اس غیر معمولی صورتحال کا بنگلہ دیش کو ادراک نہیں تھا دوسرے بورڈز خاموش رہیں گے۔
بنگلہ دیش معجزے کا منتظر
بنگلہ دیش بورڈ کے صدر امین الاسلام نے میٹنگ کے بعد مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئی سی سی ایک دو روز کی مدت مانگی ہے اور وہ حکومت سے بات کریں گے کہ حکومت اس سلسلے میں کیا رہنمائی کرتی ہے وہ حکومت پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے لیکن ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا اب بھی یہی موقف ہے کہ ہم انڈیا نہیں جاسکتے اور ہمارے میچ سری لنکا منتقل کردئیے جائیں لیکن آئی سی سی اپنے موقف پر قائم ہے کہ جانا ہوگا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اب ایک دن میں کیا کرلیں گے تو انہوں نے کہا کہ میں معجزے کا منتظر ہوں کہ آئی سی سی اس بات کو سمجھ جائے کہ انڈیا جانا بہت خطرناک ہے اور بنگلہ دیش کا مطالبہ تسلیم کرلے لیکن وہ یہ بات کہتے ہوئے خود ناامید نظر آئے بنگلہ دیشی حکومت پہلے ہی سخت موقف اختیار کرچکی ہے کہ ٹیم کسی صورت انڈیا نہیں جائے گی۔
آئی سی سی کا سخت موقف
آئی سی سی جو ماضی میں سیکیورٹی مسائل پر بڑے فیصلے لیتی رہی ہے جیسے چیمپئنز ٹرافی کے میچز دبئی میں اور پھر پاکستان کے میچز سری لنکا میں لیکن اس دفعہ آئی سی سی بنگلہ دیش کو کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور مسلسل انکار کے باوجود آئی سی سی نے ابھی تک کسی بھی درخواست پر غور کرنے کی بھی زحمت نہیں کی ہے۔
بنگلہ دیش جو گزشتہ ایک سال سے انڈیا کے ساتھ سرد جنگ میں مصروف ہے اسے امید تھی کہ جس طرح پاکستان اور انڈیا نے اپنا موقف منوایا ہے وہ بھی منوالے گا لیکن آئی سی سی نے اس معاملے میں سخت ردعمل دیا ہے۔
آئی سی سی نے حتمی طور پر بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور اس ہفتے کے اختتام تک اعلان کردیا جائے گا اگر بنگلہ دیش بائیکاٹ کرتا ہے۔
کیا پی سی بی بنگلہ دیش کا ساتھ دے گا
پی سی بی نے اگرچہ بنگلہ دیش کے موقف کی حمایت کی ہے اور ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کیا ہے لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ پی سی بی کسی بھی صورت میں بائیکاٹ نہیں کرے گا کیونکہ پاکستان اور انڈیا کے میچ سے ٹورنامنٹ کے اخراجات پورے ہونگے اور آئی سی سی کسی صورت یہ میچ منسوخ نہیں کرسکتی پی سی بی نے ابھی تک بائیکاٹ کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے اور کچھ صحافیوں کا خیال ہے کہ آئی سی سی کے موقف میں سختی کا سبب ہی پی سی بی کی خاموشی ہے
اگر پی سی بی شروع دن سے بائیکاٹ کی بات کرتا تو آئی سی سی پر بہت دباؤ پڑ سکتا تھا تاہم پی سی بی بائیکاٹ کے نتیجے میں ریونیو سے محرومی اور مزید کرکٹ سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔
بنگلہ دیش ہوگا یا نہیں اس میں اب بس 24 گھنٹوں کی بات ہے اور جمعہ تک یہ واضح ہوجائے گا کہ آیا بنگلہ دیش انڈیا جائے گا یا اسکاٹ لینڈ لیکن بنگلہ دیش بورڈ کو دونوں صورتوں میں اپنی پوزیشن اور حیثیت کو سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں بنگلہ دیش کی وہ حیثیت نہیں کہ اپنے مطالبات منواسکے اس لیے ایسی بحث شروع کرکے بنگلہ دیش بورڈ نے خود کو مزید پریشانیوں میں ڈال دیا ہے شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ ہر جنگ اپنے زور بازو پر لڑنا چاہیے۔

