امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے ممالک پر تجارتی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی اتحادی ساتھ نہ چلے تو ان پر پابندیاں اور ٹیرف لگائے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے، اس لیے وہ ڈنمارک سمیت دیگر ممالک پر بھی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
اس سے قبل گرین لینڈ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی جیف لینڈری نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق ایک معاہدہ ہونا چاہیے اور یہ ہو کر رہے گا۔
ان کے مطابق صدر ٹرمپ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں اور انہوں نے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں۔
اسی تناظر میں امریکی کانگریس کے 11 رکنی دو جماعتی وفد نے کوپن ہیگن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
وفد میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز شامل تھے، جنہوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
ادھر گرین لینڈ میں عوامی سطح پر خوف کی فضا پائی جا رہی ہے۔
دارالحکومت نوک کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ امریکی حملے یا زبردستی قبضے کے خدشے کے باعث وہ خود آسمان اور سمندر پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ہنگامی صورتحال کے لیے حکومتی سطح پر واضح تیاری نظر نہیں آتی۔
ڈنمارک نے اعلان کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کی ایمرجنسی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی تعاون فراہم کرے گا۔
نیٹو کے تحت یورپی ممالک کے فوجی دستے بھی گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ جرمنی نے علاقے میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فضائی مشن کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی اور ڈنمارک حکام کے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ گرین لینڈ کے حصول پر تکنیکی بات چیت پر اتفاق ہوا ہے۔
تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف امریکی سیکیورٹی خدشات پر بات کے لیے ایک ورکنگ گروپ بنایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی دھمکیوں اور بیانات نے آرکٹک خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ یورپی اتحادی صورتحال کو ٹھنڈا کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
