ایک تفصیلی شماریاتی تحقیق نے ٹیسٹ کرکٹ میں دیے جانے والے مین آف دی میچ ایوارڈز پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تحقیق کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر بار یہ اعزاز حقیقی بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کو نہیں ملا۔
تحقیق میں میچ پرفارمنس انڈیکس (MPI) کو بنیاد بنا کر اب تک کھیلے گئے 2615 ٹیسٹ میچز کا تجزیہ کیا گیا۔
ان میں سے 2550 میچز ایسے تھے جن میں مین آف دی میچ دیا جانا ممکن تھا، جبکہ 1671 میچز میں باقاعدہ طور پر یہ ایوارڈ دیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف 69 فیصد مواقع پر مین آف دی میچ واقعی بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کو ملا، جبکہ 31 فیصد میچز میں یہ اعزاز ایسے کھلاڑیوں کو دے دیا گیا جو مجموعی طور پر سب سے مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔
یہاں تک کہ 10 ایسے کیسز بھی سامنے آئے جہاں مین آف دی میچ پانے والے کھلاڑی کی کارکردگی، اصل بہترین پرفارمر سے 50 فیصد سے بھی کم تھی۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا نے پانچواں ایشز ٹیسٹ جیت کر سیریز 4-1 سے اپنے نام کرلی
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ مین آف دی میچ کے فیصلوں میں بیٹرز کو واضح برتری حاصل رہی۔
مجموعی طور پر 54 فیصد ایوارڈز بیٹنگ پر مبنی کارکردگی پر دیے گئے، 28.9 فیصد باؤلرز کو ملے، جبکہ صرف 17 فیصد آل راؤنڈرز کے حصے میں آئے۔
ماہرین کے مطابق اکثر سنچری بنانے والے بیٹر کو ترجیح دی جاتی ہے، حالانکہ کئی مواقع پر پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر کی مجموعی کارکردگی میچ پر زیادہ اثر ڈالتی ہے۔
نومبر 2025 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں مشفق الرحیم کو مین آف دی میچ دیا گیا، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق تجول اسلام کی 8 وکٹیں زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔
تحقیق میں کچھ غیر معمولی اور متنازع فیصلوں کی نشاندہی بھی کی گئی، جن میں ایک ہی میچ میں دو کھلاڑیوں کو مین آف دی میچ دینا اور باؤلرز کی شاندار کارکردگی کے باوجود بیٹرز کو ایوارڈ دینا شامل ہے۔
1975 سے پہلے کے وہ ٹیسٹ میچز جن میں مین آف دی میچ کا تصور موجود نہیں تھا، وہاں بھی MPI کی بنیاد پر فرضی ایوارڈز طے کیے گئے۔
اس فہرست میں 1980 کے ممبئی ٹیسٹ میں ایان بوتھم کی کارکردگی کو تاریخ کی بہترین میچ پرفارمنس قرار دیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں مین آف دی میچ کے فیصلے ہمیشہ غیر جانبدار نہیں رہے اور مستقبل میں ڈیٹا پر مبنی نظام اپنانے سے ایوارڈز کو زیادہ منصفانہ بنایا جا سکتا ہے۔
