ہندو انتہاپسندوں کی دھمکیوں کے باوجود بنگلا دیش کا بھارت کو کرارا جواب
انتہا پسندانہ پالیسیز کے سبب بھارت عالمی اور علاقائی سطح پر شدید تنہائی کا شکار
انتہا پسندانہ پالیسیز کے سبب بھارت عالمی اور علاقائی سطح پر شدید تنہائی کا شکار ہو چکا ہے، بنگلا دیش سمیت ہمسایہ ممالک میں مودی کے انتہا پسند ہندوتوا نظریہ نے بھارت مخالف جذبات بھڑکا دیے۔
مودی کی پشت پناہی میں بنگلا دیشی نوجوان کارکن عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلہ دیش نے بھارت کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جبکہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر بنگلا دیش کے مختلف اعلانات کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمت کی توثیق کر دی۔ بھارت میں مودی کے انتہا پسند غنڈوں کی دھمکیوں کے بعد بنگلا دیش نے بھارت کیلئے ویزوں کا اجراء روک دیا۔
بھارتی نشریاتی ادارہ این ڈی ٹی وی کے مطابق بنگلا دیشی وزارت خارجہ کے مشیر ایم توحید حسین نے بنگلا دیش کا بھارت میں مزید 3 اہم سفارتی مشنز میں ویزا خدمات معطل کرنے کا اعلان کردیا اور نئی دہلی، کولکتہ اور اگرتلہ میں اپنے تین مشنز سے ویزا سیکشنز کو بند رکھنے کی ہدایت دی۔
امریکی جریدہ” فارن پالیسی” نے بھی بنگلا دیش کے ہاتھوں مودی کی رسوائی کو واضح کر دیا اور بتایا کہ بھارتی مداخلت اور انتہا پسندی کے پیش نظر بنگلہ دیش نے انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کی نشریات پر پابندی عائد کر دی۔
فارن پالیسی کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے بھی آئندہ ورلڈ کپ کے دوران بھارت میں میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا، بنگلا دیش کے مطابق بھارت طویل عرصے سے ملک کی سیاست اور خارجہ پالیسی میں مداخلت کر رہا ہے۔
ماہرینِ عالمی امورکے مطابق بھارت کی ہمسایہ ممالک میں مسلسل مداخلت سرحدی تنازعات کو بھڑکا کر عالمی قوانین کو چیلنج کر رہی ہے، بھارت کے دہشتگردانہ اور انتہا پسندانہ عزائم نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے، ہندوتوا نظریات اور بالادستی کے عزائم کے باعث بھارت نیٹ ریجنل ڈیسبلائزر میں بن چکا ہے۔
