نئی دہلی: بھارتی ریاست منی پور میں تین سال گزرنے کے باوجود امن بحال نہ ہو سکا جبکہ مرکز اور ریاست کے درمیان خلیج خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت کے غیر سنجیدہ اور بالادستانہ رویے نے منی پور کو عملی طور پر نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے۔
کُوکی اور میتی برادری کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں اسی حکومتی طرزِ عمل کا نتیجہ ہیں، جبکہ صدر راج کے نفاذ کے باوجود ریاست میں اعتماد بحال کرنے میں ناکامی سامنے آئی ہے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق 2023 میں ہندو میتی اور عیسائی کوکی کمیونٹی کے درمیان بدترین نسلی تشدد ہوا، جس کے متاثرین نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے نہ صرف تشدد روکنے میں ناکامی دکھائی بلکہ بعض حلقوں کے مطابق تنازع کو منظم انداز میں بڑھنے دیا گیا۔
مزید پڑھیں: بھارتی ریاست منی پور میں فسادات، کرفیو نافذ، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے اس بحران کو “ریاستی نااہلی” کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تقریباً 50 ہزار افراد، جن میں اکثریت کوکی عیسائیوں کی ہے، آج بھی پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
کئی کوکی خاندان صرف 84 روپے یومیہ سرکاری وظیفے پر گزارا کر رہے ہیں، جبکہ روزگار اور بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
دی اکانومسٹ کے مطابق کوکی کمیونٹی نیم خود مختار علاقے کا مطالبہ کر رہی ہے، تاہم ریاست میں سیکیورٹی کے نام پر قائم بے شمار چیک پوسٹوں نے عام زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوکی قبائل کو عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملا اور بھارتی عدالتی فیصلوں میں اکثر ہندو میتی قبائل کی حمایت دکھائی دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری ملازمتوں اور قبائلی زمینوں میں میتی قبائل کو ترجیح دی گئی، جبکہ سابق وزیرِ اعلیٰ منی پور آئرن سنگھ، جن کا تعلق بی جے پی اور میتی کمیونٹی سے تھا، پر کوکی قبائل کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
دی اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ کوکی قبائل کو ہندو اکثریتی معاشرے کی جانب سے نسلی امتیاز، توہین آمیز القابات اور غیر قانونی تارکینِ وطن جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بی جے پی حکومت پر معمولاتِ زندگی بحال کرنے میں دانستہ ہچکچاہٹ کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقامی آبادی کو اب یقین ہو چکا ہے کہ دہلی کے حکام کو ان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔
سیاسی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ منی پور کا بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے اور ناکام گورننس پرانی آزادی پسند تحریکوں کے دوبارہ ابھرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
