واشنگٹن: صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے اہم ماحولیاتی معاہدے سمیت 66 بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے امریکا کے انخلا کا اعلان کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کے اہم ماحولیاتی فریم ورک کنونشن (UNFCCC) سمیت 66 بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے امریکا کے انخلا کا اعلان کر دیا، جس پر ماہرین، ماحولیاتی تنظیموں اور سابق حکومتی عہدیداروں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
بدھ کے روز جاری صدارتی میمورنڈم میں صدر ٹرمپ نے UNFCCC اور دیگر اداروں سے علیحدگی کا حکم دیتے ہوئے انہیں “امریکا کے مفادات کے خلاف” قرار دیا۔
UNFCCC عالمی سطح پر ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے بنیادی معاہدہ سمجھا جاتا ہے، جسے 34 برس قبل تمام ممالک نے تسلیم کیا تھا اور امریکی سینیٹ نے بھی 1992 میں اس کی توثیق کی تھی۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کو عالمی کوششوں سے مکمل طور پر الگ تھلگ کر دے گا، ایسے وقت میں جب دنیا خطرناک حد تک بڑھتے درجۂ حرارت، ہیٹ ویوز، طوفانوں اور خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی مشیرِ موسمیات جینا مکارتھی نے اس اقدام کو “شرمناک، قلیل المدتی اور احمقانہ فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکا دہائیوں پر محیط عالمی قیادت اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع سے محروم ہو جائے گا۔
نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے صدر منیش باپنا نے کہا کہ UNFCCC سے نکلنا “خود ساختہ نقصان” ہے، جو امریکا کی چین کے ساتھ صاف توانائی کی ٹیکنالوجی میں مسابقت کو مزید کمزور کرے گا۔
ان کے مطابق باقی دنیا صاف توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ امریکا خود کو پیچھے دھکیل رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اقوامِ متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC)، انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی، انٹرنیشنل سولر الائنس اور انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر جیسے اداروں سے بھی نکل جائے گا۔
اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پیرس ماحولیاتی معاہدے سے بھی دستبردار ہو چکی ہے اور برازیل میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی مذاکرات میں امریکی وفد بھی نہیں بھیجا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ UNFCCC کی توثیق امریکی سینیٹ نے کی تھی، اس لیے یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ یکطرفہ طور پر اس سے دستبردار ہو سکتے ہیں یا نہیں، اور آیا مستقبل میں کوئی صدر سینیٹ کی منظوری کے بغیر دوبارہ شمولیت اختیار کر سکے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جن معاہدوں سے امریکا نکل رہا ہے وہ “ترقی پسند نظریات کے زیرِ اثر اور قومی مفادات سے کٹے ہوئے” ہیں۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی بحران ایک مسلمہ حقیقت ہے جو معیشت اور انسانی زندگیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
سابق امریکی نائب صدر اور ماحولیاتی کارکن ال گور نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ تیل کی صنعت کے دباؤ میں آ کر امریکا کو ماحولیاتی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹا رہی ہے، جس کے نتائج پوری دنیا بھگتے گی۔
امریکا جن دیگر اداروں سے نکلنے جا رہا ہے، ان میں اقوامِ متحدہ یونیورسٹی، انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی، انٹرنیشنل ٹراپیکل ٹمبر آرگنائزیشن اور متعدد ثقافتی و تحقیقی ادارے بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق مزید اداروں سے متعلق جائزہ ابھی جاری ہے۔
