کراچی، سفاکیت کی انتہا، ماں کو تین بچوں سمیت قتل کرکے گٹر میں پھینک دیا گیا
مقتولہ انیلہ کھارادر کی رہائشی تھیں، انہوں نے 30 دسمبر کو کھارادر میں کرائے کا مکان لیا تھا
کراچی: کراچی میں انسانیت سوز واقعے میں سفاکیت کی انتہا کردی گئی، ماں کو تین بچوں سمیت قتل کرکے گٹر میں پھینک دیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق مائی کلاچی روڈ کے قریب مین ہول سے ملنے والی چار لاشوں کی شناخت ہو گئی، مقتولین میں ایک خاتون اور اس کے تین کم سن بچے شامل ہیں، واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت 35 سالہ انیلہ دختر محمد انیل کے نام سے ہوئی جو طلاق یافتہ تھیں، جبکہ بچوں میں 13 سالہ کشور زہرہ، 12 سالہ حسین علی اور 10 سالہ کونین علی شامل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ انیلہ کھارادر کی رہائشی تھیں اور انہوں نے 30 دسمبر کو کھارادر میں ایک نجی بینک کے اوپر فرسٹ فلور پر کرائے کا مکان لیا تھا۔
مقتولہ کے بھائی مصطفیٰ نے بول نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، ایک ہفتہ قبل بہن سے آخری بار فون پر بات ہوئی تھی، جبکہ 30 دسمبر کے بعد انیلہ کا موبائل فون بند تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ دو روز قبل بہن کے گھر گئے تو تالا لگا ہوا تھا اور متعدد بار جانے کے باوجود گھر بند ملا۔
مصطفیٰ کے مطابق انیلہ کو ڈھائی سال قبل شوہر نے طلاق دے دی تھی جس کے بعد وہ خود ہی بچوں کی کفالت کر رہی تھیں، جبکہ تینوں بچے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق خاتون نیو ایئر نائٹ پر گھر سے نکلی تھیں جس کے بعد لاپتہ ہو گئیں، جبکہ گزشتہ روز مائی کلاچی روڈ کے قریب مین ہول سے چاروں لاشیں برآمد ہوئیں۔
پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
