صدر مملکت اور وزیراعظم کا کشمیریوں کے یوم حق خودارادیت پر پیغام
مسئلہ کشمیر طاقت سے نہیں، مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے حل ہوگا
اسلام آباد : پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیریوں کے یوم حق خودارادیت پر اپنے پیغامات دیے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے یومِ حقِ خود ارادیت کشمیر پر کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد سات دہائیوں بعد بھی جاری ہے، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا کشمیریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، مقبوضہ کشمیر میں سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ جبری قوانین اور طویل قید و بند نے خوف کا ماحول پیدا کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں عام شہری تشدد اور بے گھری کا شکار ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی عالمی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے، کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر کنٹرول خطے کے استحکام کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر طاقت سے نہیں، مذاکرات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں سے حل ہوگا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے، عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر محض تشویش نہیں، عملی کردار ادا کرے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ’’یوم حق خودارادیت‘‘ کےموقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام 8 دہائیوں سے بھارتی افواج کے مظالم برداشت کررہے ہیں، بھارت نے کشمیری عوام کی حقیقی قیادت کو خاموش، میڈیا کو دبانے کی مسلسل کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرارداد کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا، یہ عہد آج تک پورانہیں ہوسکا اور مذکورہ قرارداد پرعملدرآمد نہیں ہوا۔
وزیراعظم نے بھارتی مقبوضہ حق خودارادیت کے لیے جاری جائز جدوجہد، غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیرقانونی، یکطرفہ اقدامات کیے، کشمیری عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے۔
شہبازشریف نے مزید کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کررہے ہیں، ہزاروں کشمیری سیاسی قیدی آج بھی جیلوں میں ہیں، یہ ہتھکنڈے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہے ہیں۔
