چین کم شرح پیدائش سے پریشان، مانعِ حمل اشیا پر ٹیکس، بچوں کی نگہداشت سستی

بیجنگ: چین نے گرتی ہوئی شرحِ پیدائش کو بڑھانے کے لیے نیا ٹیکس اور سماجی اصلاحاتی منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔

یکم جنوری سے مانعِ حمل اشیا، جن میں کنڈوم، برتھ کنٹرول گولیاں اور دیگر آلات شامل ہیں، پر 13 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ بچوں کی نگہداشت (چائلڈ کیئر) کی خدمات کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

یہ اقدام گزشتہ برس کے آخر میں اعلان کردہ ٹیکس نظام کی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کے تحت 1994 سے نافذ متعدد ٹیکس چھوٹ ختم کی جا رہی ہیں۔

اسی پالیسی کے تحت شادی سے متعلق خدمات اور بزرگوں کی دیکھ بھال کو بھی VAT سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ حکومت نے والدین کی چھٹی میں توسیع اور نقد امداد جیسے اقدامات بھی شامل کیے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی آبادی مسلسل تیسرے سال کم ہوئی ہے۔ 2024 میں صرف 95 لاکھ 40 ہزار بچے پیدا ہوئے، جو ایک دہائی قبل کے مقابلے میں تقریباً نصف ہیں، جب چین نے ایک بچے کی پالیسی میں نرمی شروع کی تھی۔

تاہم مانعِ حمل اشیا پر ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے پر عوامی سطح پر تشویش اور تنقید سامنے آئی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر ارادی حمل اور ایچ آئی وی جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اس فیصلے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ قیمت بڑھنے سے پہلے کنڈومز ذخیرہ کر لیں گے۔

بیجنگ کے یووا پاپولیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق چین میں بچے کی پرورش دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شمار ہوتی ہے۔ تعلیمی اخراجات، سخت مسابقتی ماحول اور خواتین کے لیے کام اور گھر میں توازن قائم رکھنا بڑے مسائل ہیں۔

36 سالہ ڈینیئل لوو، جو صوبہ ہینان میں رہتے ہیں، کہتے ہیں کہ کنڈوم کی قیمت میں معمولی اضافے سے ان کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ بچے کی پرورش کے طویل المدتی اخراجات ہیں۔

دوسری جانب شی آن شہر کی رہائشی روزی ژاؤ کو خدشہ ہے کہ غریب یا طلبہ طبقہ مہنگی مانعِ حمل اشیا کے باعث “خطرہ مول لے سکتا ہے”، جو اس پالیسی کا خطرناک نتیجہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے بھی منقسم

یونیورسٹی آف وسکونسن کے ماہرِ آبادیات یی فوشیان کے مطابق کنڈوم پر ٹیکس سے شرحِ پیدائش میں اضافہ سوچ سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت مالی دباؤ کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ گزشتہ سال چین کی VAT آمدن تقریباً ایک ٹریلین ڈالر رہی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی مداخلت اگر حد سے بڑھی تو الٹا ردِعمل بھی آ سکتا ہے، خاص طور پر جب بعض علاقوں میں خواتین سے حیض اور بچوں کے منصوبوں سے متعلق معلومات طلب کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کو درپیش مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ نوجوانوں میں شادی اور تعلقات کا رجحان کم ہو رہا ہے، دباؤ اور غیر یقینی مستقبل کے باعث لوگ تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ایسے میں محض ٹیکس پالیسیوں سے شرحِ پیدائش بڑھانا ایک مشکل چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

Related posts

مال نے CBUAE سے بینک لائسنس کے لیے اصولی منظوری حاصل کی۔

عبداللہ بن زاید کی برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات، علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال

مسلم کونسل برقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔