فیشن انڈسٹری اربوں ڈالر ترقی کی بلندی پر، پاکستان کا حصہ کتنا؟
اربوں ڈالر کی فیشن انڈسٹری میں پاکستان کا کردار محدود
عالمی فیشن انڈسٹری کا مجموعی حجم 3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، تاہم اس وسیع مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، جو ملکی برآمدات میں موجود بڑے امکانات کے باوجود خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (PIFD) کی جانب سے ملک کا پہلا ڈیزائن اور ای-کامرس سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اس منصوبے پر 241 ملین روپے لاگت آئے گی اور اسے جون 2028 تک مکمل کیے جانے کا امکان ہے۔
حکام اور فیشن انڈسٹری سے وابستہ رہنماؤں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ڈیزائن پر مبنی برآمدات کو فروغ دینا اور پاکستانی ڈیزائنرز کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
اس کے تحت جدید ڈیزائن طریقہ کار، ڈیجیٹل پورٹلز اور آن لائن ہبز قائم کیے جائیں گے، جن کے ذریعے مقامی ڈیزائنرز اور ہنرمندوں کو براہِ راست بین الاقوامی خریداروں سے جوڑا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ای-کامرس کی تربیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ڈیزائنرز اور آرٹسنز کی مالی خودمختاری میں بھی اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں پاکستان عالمی فیشن انڈسٹری میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنا سکے گا۔