بنگلہ دیش میں یومِ سوگ، انقلابی رہنما شریف ہادی کی سرکاری سطح پر نمازِ جنازہ

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں 2024 کی طلبہ قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نمایاں رہنما شریف عثمان ہادی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

بنگلہ دیش کے انقلابی رہنما شریف عثمان ہادی کی شہادت پر ملک بھر میں یومِ سوگ منایا گیا، جبکہ ان کی نمازِ جنازہ پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ہفتے کو ڈھاکا میں قومی اسمبلی (جاتیہ سنگشد بھبن) کے ساؤتھ پلازہ میں ادا کی گئی۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹیولپ صدیق کو سزائیں

ان کی نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

جنازے سے قبل سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور دارالحکومت کی اہم سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔

سیکیورٹی اہلکار باڈی کیمروں کے ساتھ گشت کرتے رہے، شریف عثمان ہادی کا جسدِ خاکی ایمبولینس کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس لایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ ہفتے کے روز احتجاجی مظاہروں میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم گزشتہ دنوں ہونے والے پُرتشدد واقعات کے اثرات برقرار رہے۔

مختلف شہروں میں سرکاری و سیاسی عمارتوں، اخبارات اور ثقافتی اداروں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

چٹاگانگ میں ایک سیاسی رہنما کے گھر کو نذرِ آتش کیے جانے کی بھی تصدیق کی گئی۔

بنگلہ دیش شلپاکلا اکیڈمی نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنی تمام سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔

معروف اخبارات پروتھوم آلو اور ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر حملوں کے باوجود اداروں نے آن لائن اشاعت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

32 سالہ شریف عثمان ہادی، انقلابی پلیٹ فارم “انقلاب منچو” کے ترجمان تھے اور آئندہ عام انتخابات میں ڈھاکا کے ایک حلقے سے رکنِ پارلیمنٹ بننے کا ارادہ رکھتے تھے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے بیٹے کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری

انہیں 12 دسمبر کو موٹر سائیکل سوار نقاب پوش حملہ آوروں نے سر میں گولی مار دی تھی۔

بعد ازاں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

ان کی شہادت کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا، جس میں بھارت مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔

مظاہرین نے شریف عثمان ہادی کے قاتلوں اور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ کو نومبر میں طلبہ تحریک کے دوران مظاہرین کے قتل کے الزام میں انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس تحریک کے دوران 1400 سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات اور ایکواڈور کے صدور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں

متحدہ عرب امارات کے صدر نے عراق کے کردستان خطے کے وزیر اعظم سے ملاقات کی

مذاکرات کے لیے تیار مگر میزائل پروگرام ہماری ریڈ لائن ہے، ایران