امید ہے وینزویلا روس سے تصادم کا باعث نہیں بنے گا، امریکی وزیر خارجہ

واشنگٹن: امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امید ہے وینزویلا میں امریکی کارروائی روس سے تصادم کا باعث نہیں بنے گی۔

واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امید ہے وینزویلا میں امریکی کارروائی روس سے تصادم کا باعث نہیں بنے گی۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ روس صرف زبانی حمایت فراہم کرے گا، جبکہ امریکا اپنے قومی مفاد کے تحفظ پر مرکوز رہے گا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ یوکرین، غزہ، اور دیگر عالمی مسائل پر ہر روز مذاکرات اور رابطے جاری ہیں، چاہے وہ فون کالز، سفارتی سطح یا ملاقاتوں کے ذریعے ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے امن معاہدوں جیسے تھائی لینڈ-کمبوڈیا اور DRC-روانڈا میں لڑائیاں وقتی طور پر رکی تھیں اور اب ہمیں ان کے نفاذ کی طرف دوبارہ توجہ مرکوز کرنی ہے۔

روس اور یوکرین:

روبیو نے کہا کہ امریکا یوکرین اور روس کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کر رہا ہے، لیکن کوئی معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب دونوں فریق رضامند ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اس خونریز جنگ کے فوری خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، کیونکہ یہ یوکرین کی بنیادی ڈھانچے اور شہریوں کے لیے تباہ کن ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ غزہ میں ممکنہ امن و استحکام فورس کے حوالے سے پاکستان سمیت مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل مینڈیٹ، فنڈنگ اور قواعدِ کار واضح کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے اس عمل میں شامل ہونے پر غور کی پیشکش کی ہے اور امریکا اس تعاون کو اہم سمجھتا ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی مزید سفر طے کرنا باقی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی فریق پر معاہدہ مسلط نہیں کرنا چاہتا بلکہ دونوں فریقین کی رضامندی سے قابلِ عمل حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں لبنانی حکومت مضبوط ہوگی اور حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے گا، کیونکہ حزب اللہ کی مسلح حیثیت خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

سوڈان کے بحران پر بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا کی اولین ترجیح انسانی بنیادوں پر جنگ بندی ہے تاکہ متاثرہ آبادی تک امداد پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سوڈان میں جاری تشدد ایک انسانی المیہ ہے جس کے اثرات پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔

لاطینی امریکا سے متعلق سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ مغربی نصف کرے میں سب سے بڑا خطرہ منظم جرائم پیشہ اور منشیات اسمگلنگ نیٹ ورکس ہیں، جبکہ وینزویلا پر الزام عائد کیا کہ وہاں کی حکومت دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ کھلا تعاون کر رہی ہے۔

نیٹو اور یورپی اتحادی ممالک:

روبیو نے کہا کہ امریکہ نے نیٹو میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور اب اتحادی ممالک سے توقع ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ اور صلاحیتوں کو بڑھائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ نیٹو آج مضبوط تر ہے اور امریکی فوجی اور مالی سرمایہ کاری اس اتحاد کی پائیداری کو یقینی بناتی ہے۔

کیوبا اور انسانی امداد:

کیوبا کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ امریکہ ہر ممکنہ حکومت میں بہتری دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ موجودہ نظام ناکام اور ناکارہ ہے۔

ویزا اور داخلہ پالیسی:

وزیر خارجہ نے بتایا کہ گذشتہ سال 60 سے 70 ہزار ویزے منسوخ کیے گئے، جن میں کچھ طلبہ بھی شامل تھے، اور ویزا منسوخی کا مقصد قومی سلامتی اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ویزوں کی منسوخی سزا یا مثال قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ امریکی مفاد کے لیے کی جاتی ہے۔

آزادی اظہار اور عالمی خدشات:

روبیو نے خدشہ ظاہر کیا کہ یورپ میں امریکی آزادی اظہار کے حقوق پر اثر انداز ہونے والی پالیسیاں بڑھ رہی ہیں، اور یہ امریکی اقدار اور عالمی تعلقات کے لیے خ

طرہ ہیں۔

 

Related posts

مادھوری کے گانے پر امر خان کو بولڈ لباس میں رقص کرنا مہنگا پڑ گیا

محمد بن راشد کا جائزہ دبئی کے نیلے اور گرین اسپیس روڈ میپ 2030 – متحدہ عرب امارات

رخصتی کے موقع پر لائبہ خان کا مزاحیہ انداز؛ دلچسپ گفتگو نے محفل لوٹ لی