آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی الیکشنز ایکٹ 2017ء کے تحت کمیشن کا مکمل طور پر قانونی اختیار ہے، الیکشن کمیشن

آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی الیکشنز ایکٹ 2017ء کے تحت کمیشن کا مکمل طور پر قانونی اختیار ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن مکمل ہونے کے بعد تنازعات کے حل کے لیے مختلف فورم موجود ہیں

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بعض مخصوص عناصر حسب معمول حالیہ ضمنی انتخابات خصوصاً ہری پور این اے 18 کو متنازع بنانے کے لیے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، یہ دعوے حقائق کے سراسر منافی ہیں، آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی الیکشنز ایکٹ 2017ء کے تحت کمیشن کا مکمل طور پر قانونی اختیار ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات میں عملے کی کمی کے باعث الیکشن کمیشن کے لیے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی، ضمنی انتخابات میں ضرورت کے تحت ایسا کیا جاتا ہے، اس ضمنی انتخاب میں بھی اسی ایریا میں تعینات الیکشن کمیشن کے افسروں کو ڈی آر او اور آر او مقرر کیا گیا، الیکشنز ایکٹ 2017ء کے تحت یہ کمیشن کا مکمل طور پر قانونی اختیار ہے۔

 الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیشہ الیکشن کمیشن ہی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز تعینات کرتا آیا ہے، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی تعیناتی پول ڈے سے بہت پہلے کر دی جاتی ہے،  الیکشن کے دن تک کسی جانب سے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا اور الیکشن ہارنے کے بعد یہ الزامات لگائے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے شکایات کے ازالہ کیلئے مانیٹرنگ کنٹرول روم قائم کردیا

الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن مکمل ہونے کے بعد تنازعات کے حل کے لیے مختلف فورم موجود ہیں، ریٹرننگ آفیسر نے درخواست وصول کرنے سے انکار کیا تو متعلقہ فریق کو کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے تھا، فارم 45 کے پہلے سے تیار ہونے کا الزام بھی غلط ہے کیونکہ تمام پریزائیڈنگ آفیسرز اور معاون عملہ صوبائی انتظامیہ سے لیا گیا۔

اگر الیکشن کمیشن چاہتا تو خیبر پختونخوا میں تعینات وفاقی اداروں کے ملازمین کو پریزائیڈنگ آفیسر لگا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا، صوبائی انتظامیہ سے فراہم کردہ عملے نے انتخاب کے بعد پولنگ بیگز اور نتائج ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں جمع کروائے۔

 اسی طرح سیکیورٹی کا عملہ بھی صوبائی حکومت کا تھا، ہر انتخاب کے بعد ایک جیسے بے بنیاد الزامات دہرانے کا مقصد صرف انتخابی عمل کو مشکوک بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی فریق کو نتائج پر اعتراض ہے تو اس کا فورم الیکشن ٹربیونل ہے،  الیکشن کمیشن نے ان ضمنی انتخابات میں بھی آئین اور قانون کے مطابق اقدامات کیے اور کرتا رہے گا۔

Related posts

مسلم کونسل برقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

ابوظہبی سول ڈیفنس نے ہنگامی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے خواتین کے کمیونٹی ریسپانڈر فورم کا آغاز کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان