کراچی : شہر قائد کے باسیوں کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں دھکیلنے والی کے الیکٹرک میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
کے ای ہولڈنگ لمیٹڈ (KEH) جو کے الیکٹرک کی اکثریتی شیئرہولڈر ہے، نے KE کی سینئر مینجمنٹ اور بورڈ کے حالیہ طرزِ عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
KEH نے سی سی او مونس علوی کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا ہے کہ کمپنی کے اہم امور میں حساس معلومات کا میڈیا تک لیک ہونا اور بورڈ میٹنگز کے متعلق غلط معلومات پھیلانا انتہائی تشویشناک ہے۔
مزید پڑھیں: 2023 بریک ڈاؤن، کے الیکٹرک کی غفلت ثابت، نیپرا نے جرمانہ عائد کر دیا
یہ خط چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی ارسال کیا گیا ہے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ KEH کے مطابق KE کی سینئر مینجمنٹ نے حکومت پاکستان، NEPRA اور دیگر کلیدی اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد کھو دیا ہے۔
KEH نے اس ناکامی کے متعدد عوامل بتائے، جن میں کمپنی کے لیے واضح اسٹریٹجک وژن کا فقدان، مالی اور آپریشنل نتائج کی خراب کارکردگی، غیر ضروری PR مہمات، اور غیر دانشمندانہ قانونی حکمتِ عملیاں شامل ہیں۔
KEH نے کہا کہ اقلیتی شیئر ہولڈرز، ال جومیع پاور لمیٹڈ اور ڈینم انویسٹمنٹ کے اقدامات نے KE کے بورڈ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
خط کے مطابق اکتوبر 2022 میں اقلیتی شیئر ہولڈرز نے سندھ ہائی کورٹ سے یکطرفہ حکمِ امتناع حاصل کیا، جس کے باعث بورڈ میں تقرریاں روک دی گئیں۔
مزید پڑھیں: کراچی؛ کے الیکٹرک کا مسلسل بریک ڈاؤن، 884 ملین گیلن پانی ضائع
تاہم، اپیلیٹ کورٹ نے واضح کیا کہ یہ حکم غیر قانونی اور شیئر ہولڈرز ایگریمنٹ کی خلاف ورزی تھا۔
KEH نے زور دیا ہے کہ KE کا بورڈ مکمل کیا جائے اور بورڈ کو نئے انتخابات کے ذریعے دوبارہ تشکیل دیا جائے۔
KEH کے مطابق نئے لیڈرشپ کی تعیناتی ضروری ہے تاکہ KE کا ٹیرف پائیدار ہو اور کمپنی اپنے صارفین اور شیئر ہولڈرز کے مفاد میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ بورڈ کی مدت 29 جولائی 2025 کو ختم ہو چکی ہے اور KEH نے SECP اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی اس معاملے سے آگاہ کیا ہے تاکہ قانونی اور معاہداتی حقوق کے مطابق نئے انتخابات کی اجازت دی جا سکے۔
