وزارت آئی ٹی نے سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا
مسودہ میں وفاق کی سطح پر سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا
وزارت آئی ٹی نے سائبر سیکورٹی ایکٹ کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے۔
مسودہ میں وفاق کی سطح پر سائبر سیکیورٹی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو اہم قومی انفراسٹرکچر کے لیے سائبر سیکورٹی اقدامات تجویز کرنے کے ساتھ اسے نافذ بھی کرے گی۔
وزارت آئی ٹی کی جانب سے جاری دستاویز کے مطابق سائبر سیکورٹی ایکٹ اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے وزارت آئی ٹی کے منصوبوں کیلئے 8.6 ارب روپے جاری کر دیے
دستاویز میں بتایا گیا کہ نیشنل سائبر سیکورٹی پالیسی ملک گیر ڈیجیٹل تحفظ کا فریم ورک فراہم کرتی ہے، جبکہ سائبر سیکورٹی پالیسی پر ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پروگرام کے تحت نفاذ جاری ہے۔
دستاویز میں کہا گیا کہ سیکیور ڈیٹا ایکسچینج لیئر، ڈیجیٹل شناخت کے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی ہے، اور نادرا، ایف بی آر، ٹیلی کام کے ڈیٹا کو اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قرار دے دیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق اہم اداروں کے انفارمیشن سسٹمز کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے، امیگریشن اینڈ پاسپورٹس سسٹمز کو بھی اہم قرار دینے کا عمل جاری ہے۔
وزارت آئی ٹی کا کہنا ہے کہ نیشنل سائبر سیکورٹی اتھارٹی کے قیام تک سرٹ کونسل فعال ہے، جو 14 سرکاری و نجی اداروں پر مشتمل ہے۔
سرٹ کونسل کے ذریعے سائبر حملوں کے جواب اور ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2025 پر بھی کام جاری ہے۔
