فرانس، جیل میں قیدیوں سے 80 ہزار موبائل فونز برآمد ہونے پر حکام نے سر پکڑ لیے
قیدیوں کے کم از کم دو تہائی حصے اپنے سیلوں میں چرس استعمال کرتے ہیں
فرانس کے وزیرِ انصاف جیرالڈ ڈارمانین نے بتایا کہ 2024 کے دوران ملک بھر کی جیلوں سے حکام نے 80 ہزار سے زائد موبائل فون ضبط کیے ہیں۔
عام فرانسیسی شہری اور جیل عملہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جیل میں قیدی کے پاس موبائل فونز کیسے پہنچے، اور اس کا استعمال ہوتا رہا مگر حکام کو پتہ بھی نہیں چلا۔
وزیرِ انصاف نے زیرو موبائل فون ان جیل نامی نئے سخت گیر پلان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد قیدیوں کے موبائل فون استعمال کو مکمل طور پر ختم کرنا اور ڈرون کے ذریعے منشیات سمیت دیگر ممنوعہ اشیا کی ترسیل روکنا ہے۔
کروڑوں یورو کے پروگرام کے تحت متعدد جیلوں میں کھڑکیوں پر باریک جالیوں، ایکس رے مشینوں اور موبائل سگنل جامرز کا نظام نصب کیا جائے گا جو فون اور انٹرنیٹ کنکشن کو مکمل طور پر بلاک کر دے گا۔
پیرس کی تاریخی لا ساںتے جیل کے دورے کے دوران وزیرِ انصاف نے کہا کہ گزشتہ سال 80 ہزار موبائل فون ضبط کیے گئے، ساتھ ہی بڑی مقدار میں منشیات بھی برآمد ہوئیں۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ لا ساںتے جیل کے افسران نے بتایا کہ یہاں قیدیوں کے کم از کم دو تہائی حصے اپنے سیلوں میں چرس استعمال کرتے ہیں۔
وزیرِ انصاف نے خبردار کیا کہ خاص طور پر خطرناک مجرموں کو ہائی سیکیورٹی جیلوں میں مکمل طور پر بیرونی دنیا سے کٹ کر رکھا جائے گا۔
انہوں نے حال ہی میں مارسی میں ہونے والے ایک قتلِ عام کا حوالہ دیا جسے مبینہ طور پر جیل میں موجود ایک بڑے منشیات اسمگلر نے آرڈر دیا تھا۔
چند ماہ قبل ہی فرانسیسی پولیس نے سینکڑوں چھوٹے سائز کے منی موبائل فون ضبط کیے تھے جو سزا یافتہ مجرم جیل کے اندر سے اپنے جرائم کے نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون کی موجودگی کی وجہ سے جیلوں سے باہر جرائم پیشہ گروہوں کو منظم کرنے، دھمکیاں دینے اور منشیات کی سپلائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
نئے پلان کے نفاذ سے حکومت کو امید ہے کہ فرانسیسی جیلوں میں نظم و ضبط بحال ہو گا اور قیدیوں کی بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو جائے گا۔
