دبئی ایئر شو میں بھارتی فضائیہ کے طیارے تیجس کا حادثہ بھارت کے ’’آتم نربھرتا‘‘ (خود مختار دفاعی صلاحیت) کے دعووں کو یکسر ناکام کر کے دکھا گیا۔ اس حادثے نے عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی تیاریوں اور پُرفریب دعووں کو کھول کر رکھ دیا۔
دبئی میں جاری عالمی ایئر شو کے آخری دن ایک افسوسناک واقعہ پیش آگیا جب بھارتی فضائیہ کا لائٹ کامبیٹ ایئرکرافٹ تیجس فضائی کرتب کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔
مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے کے قریب یہ حادثہ اس وقت ہوا جب پائلٹ فضائی کرتب دکھا رہا تھا۔ طیارہ اچانک کنٹرول سے باہر ہوا اور زمین سے ٹکرا کر شعلوں میں تبدیل ہو گیا۔
فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاہم پائلٹ کو بچایا نہ جا سکا اور وہ جاں بحق ہو گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ چند روز قبل بھی اسی تیجس طیارے سے تیل کے رساؤ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس نے اس کے معیار پر سوالات اٹھائے تھے۔
بھارتی فضائیہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پائلٹ کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ حادثے کے بعد ایئر شو کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا اور تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
دہائیوں سے بھارتی میڈیا اور سیاست میں ’مقامی صلاحیتوں‘‘کی دھوم مچی ہوئی تھی، اور بھارتی حکام نے ہر موقع پر ان دعووں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ مگر ایک لمحے میں وہ سب کچھ خاک میں مل گیا جب تیجس زمین سے ٹکرا گیا۔
بھارت کا 83 بلین ڈالر کا دفاعی بجٹ جسے دفاعی ترقی کا سرچشمہ سمجھا جاتا تھا، اب ملبے کی صورت میں بکھرا نظر آیا۔
یہ حادثہ محض ایک طیارے کا حادثہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ بھارتی فوج کے مجموعی زوال کی عکاسی کرتا تھا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ جاتی کمزوریوں نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت جس طیارے کو مقامی صلاحیت کے طور پر پیش کر رہا تھا، اس میں درحقیقت حفاظت اور معیار کی کمی نظر آئی۔
امریکی کانگریس کی رپورٹ پہلے ہی بھارت کی دفاعی خریداریوں میں کرپشن اور عدم شفافیت کی نشاندہی کر چکی تھی۔ یہ حادثہ اس رپورٹ کی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے۔
تیجس کے حادثے کے دوران دیکھا گیا کہ طیارے میں ساختی کمزوریاں اور تکنیکی نقائص موجود تھے، جنہیں نظرانداز کر کے طیارے کو اُڑانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس حادثے نے ایک اور حقیقت کو عیاں کیا کہ بھارت کا دفاعی نظام بیوروکریسی اور سیاسی مداخلت کے اثرات سے شدید طور پر متاثر ہے جہاں تاثر اور تشہیر حقیقت سے کہیں زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔
دبئی ایئر شو میں بھارت نے اپنے فوجی دفاعی نظام کی نشاۃ ثانیہ دکھانے کی کوشش کی تھی، لیکن جو کچھ سامنے آیا، وہ ایک بگڑتے ہوئے فیصلہ سازی، انجینیئرنگ چین اور کمانڈ ڈھانچے کی غمازی کرتا تھا۔
تیجس کا حادثہ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ میڈیا کی جھوٹی پزیرائی، تشہیری مہم یا بیانیہ سازی کسی بھی نظام کی حقیقی حالت کو نہیں چھپا سکتی۔a
