لہری کے جملے آج بھی مسکراہٹیں بکھیردیتے ہیں

دوسو سے زائد پاکستانی فلموں میں مزاح کے رنگ بکھیرنے والے لیجنڈ اداکار لہری کو مداحوں سے بچھڑے سات برس بیت گئے۔

اپنی منفرد اداکاری سے دلوں میں گھرکرلینے والے لیجنڈ اداکار لہری کی ساتوی برسی آج منائی جارہی ہے۔ ان کے  برجستہ جملے اور مکالمے آج بھی چہروں پرمسکراہٹیں بکھیردیتے ہیں۔

لہری کا اصل نام سفیر اللہ صدیقی تھا۔وہ 1939میں بھارت کے شہرکانپورمیں پیدا ہوئے۔انیس سو چھپن میں فلم ’’انوکھی‘‘سے فلمی سفر شروع کرنے والے لہری نے 200سے زائد فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔

 ان کی مشہور فلموں میں دامن، پیغام، کنیز، میں وہ نہیں، صائقہ، نئی لیلیٰ نیا جنوں، انجمن، آج اور کل، نیا انداز، اور بیوی ہو تو ایسی شامل ہیں۔

انہیں فلموں میں بہترین اداکاری پر12نگارایوارڈز ملے۔1996میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

لہری کا فلمی سفراپنی آخری فلم دھنک تک 23 برس پر محیط رہا۔

وہ 13 ستمبر2012کو طویل علالت کے بعد83 برس کی عمرمیں خالق حقیقی سے جاملے۔

 ان کی یادگارفلمیں اورکردار ہمیشہ ان کی یاد دلاتے رہیں گے۔

Related posts

امریکا ایران کشیدگی کے اثرات؛ پاکستان اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار

یومِ آزادی پر ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے نئے عزم کی ضرورت ہے، صمد عارض

پیٹرول و ڈیزل مزید مہنگا ہونے کا امکان، حکومت پیٹرولیم ڈیلرز کے دباؤ میں آگئی