پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ حکومت کو قرار دے دیا

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اوائل اکتوبر میں ہی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بلا ضرورت چینی کی درآمد ہو گی۔

 ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ چینی کی درآمد کو روک کر مارکیٹ میں قیمتوں کی استحکام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کے پورٹلز کو کھلا رکھنے کی درخواست کی گئی تھی تاکہ چینی کی سپلائی میں خلل نہ آئے، لیکن غیر معیاری درآمدی چینی کو مارکیٹ میں بیچنے کے لیے ان پورٹلز کو بند کر دیا گیا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق، اس بندش کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی کمی پیدا ہوئی اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کا الزام شوگر انڈسٹری پر نہیں ڈالا جا سکتا، کیونکہ سپلائی لائن میں خلل کی وجہ سے چینی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حکومتی نامزد کردہ ڈیلرز کو ہی چینی فروخت کرنے کے اقدامات کی بدولت مارکیٹ میں مزید چینی کی کمی کا سامنا ہے، جس سے سپلائی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے ان اقدامات کو مارکیٹ میں بحران پیدا کرنے کا سبب قرار دیا ہے۔

Related posts

حکومت نے آج پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جولائی میں کم ہوکر 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گیا

پی ایس ایل 12 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا