نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص خارجہ پالیسی اور سفارتی ناکامیوں نے ملک کو عالمی سطح پر رسوائی سے دوچار کردیا۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق بھارتی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے اور بھارت 85 ویں نمبر پر جا پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مودی حکومت نے عوامی وسائل کو عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ہتھیاروں کی خریداری اور جنگی عزائم پر صرف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں روزگار، تعلیم اور صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں تقریباً70 فیصد وینٹی لیٹرز خراب ہیں جب کہ اسپتالوں میں بنیادی سہولیات اور معیاری ادویات کی کمی مریضوں کے لیے جان لیوا بن چکی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بھارت میں بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس نے نوجوان نسل کو مایوسی میں مبتلا کردیا ہے جب کہ 6 سے 14 سال کی عمر کے 11 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی تمام توجہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور ہندوتوا ایجنڈے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنانے پر مرکوز ہے۔
نااہل حکومت کی انہی پالیسیوں کے باعث بھارت سفارتی محاذ پر تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ تیزی سے گررہی ہے۔
