سندھ میں 588 خطرناک عمارتیں منہدم نہ ہو سکیں، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں

سندھ میں 588 خطرناک عمارتیں منہدم نہ ہو سکیں، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں۔ آڈٹ رپورٹ میں  بڑا  انکشاف  سامنے آگیا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی سنگین غفلت، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔ آڈٹ رپورٹ پرایس بی سی اے غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں پر بھی خاموش ہے۔

نئی ہاؤسنگ اسکیموں میں سہولیات کا تناسب نظر انداز، کمرشل رقبے میں غیر قانونی اضافہ ہواہے۔ سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود رہائشی و زرعی زمینیں کمرشل میں تبدیل کردی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کلیئرنس کے بغیر 37 منزلہ عمارتوں کو این او سی جاری کیا۔ گزشتہ 5 برسوں سے یکساں بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری، رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے۔

آڈٹ حکام کے مطابق شہریوں کا سرمایہ اور جانیں خطرے میں، تحقیقات اور کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

Related posts

عبداللہ بن زاید کی برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات، علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال

مسلم کونسل برقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

ابوظہبی سول ڈیفنس نے ہنگامی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے خواتین کے کمیونٹی ریسپانڈر فورم کا آغاز کیا۔