نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے تاہم تنہائی اور بائیکاٹ کا راستہ خطے کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دیئے ہوئے ہے جبکہ ان کی باعزت اور منظم واپسی کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی اپنا بوجھ اٹھائے اور تیسرے ممالک میں مہاجرین کی آبادکاری کے وعدے پورے کرے۔
پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ افغانستان کی سرزمین اب بھی دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق افغان حدود میں 60 سے زائد دہشت گرد کیمپ موجود ہیں اور یہ گروہ سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ داعش، ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ اور دیگر دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔