یورپی کمیشن کاغزہ میں قتل عام فوری روکنے کا مطالبہ، اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات تجویز

برسلز: یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان در لائن نے کہا ہے کہ غزہ میں روزانہ پیش آنے والی ہولناک صورتحال فوری طور پر ختم ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی ناگزیر ہے تاکہ لاکھوں متاثرہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اپنے بیان میں ارسلا وان در لائن نے زور دیا کہ حماس کے زیر حراست تمام یرغمالیوں کی رہائی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین انسانی امداد کا سب سے بڑا عطیہ کنندہ ہے اور یہ اپنا کردار جاری رکھے گا۔

یورپی کمیشن کی صدر نے واضح کیا کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد پائیدار راستہ ہے، لیکن اسرائیلی آبادکاری اس حل کو مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے موجودہ اقدامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

یورپی کمیشن نے اسرائیل کے خلاف کئی اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ تجارتی مراعات معطل کرنا، انتہا پسند اسرائیلی وزرا اور پرتشدد آبادکاروں پر پابندیاں عائد کرنا، اور اسرائیل کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون اور مالی اعانت کو معطل کرنا شامل ہے۔

ارسلا وان در لائن نے کہا کہ یورپی یونین خطے میں امن اور انصاف کے قیام کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش نہیں رہ سکتی۔

Related posts

مال نے CBUAE سے بینک لائسنس کے لیے اصولی منظوری حاصل کی۔

عبداللہ بن زاید کی برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات، علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال

مسلم کونسل برقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے۔