اسرائیلی انتباہ مسترد، غزہ کی مسیحی برادری چرچ چھوڑنے سے انکار کردیا

اسرائیل کی جانب سے انخلا کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے غزہ کی مسیحی برادری نے اپنے چرچ خالی کرنے سے انکار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے چرچ خالی کرنے کا انتباہ حملوں کے دوران نقصانات سے بچنے کے لیے جاری کیا ہے۔

قطری خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ سٹی کے دو بڑے چرچ ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں اسرائیل نے فلسطینیوں کو آئندہ حملے سے پہلے انخلا کا حکم دیا ہے۔ تاہم مقامی مسیحی برادری نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے عبادت گاہوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ سٹی پر اسرائیلی فوج کا حملہ، حاملہ خاتون اور نوزائیدہ بچے سمیت 100 فلسطینی شہید

مسیحی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چرچ صرف عبادت کا مقام نہیں بلکہ اس وقت ہزاروں بے گھر اور زخمی شہریوں کی پناہ گاہ بھی بن چکے ہیں، اس لیے انہیں خالی کرنا ممکن نہیں۔

اسرائیلی افواج نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران نشانہ بننے والے علاقوں میں رہنا جان کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، مگر مسیحی برادری کا مؤقف ہے کہ ’’چرچ ہمارا گھر ہے اور ہم اسے آخری وقت تک نہیں چھوڑیں گے‘‘۔

غزہ کی محصور آبادی پہلے ہی شدید بمباری اور محاصرے کا شکار ہے، جہاں اسپتال، تعلیمی ادارے اور پناہ گزین کیمپ نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اب عبادت گاہوں کو لاحق خطرے نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات کی اتحاد ریل نے مسافروں سے بدتمیزی پر AED 5,000 تک کے جرمانے متعارف کرائے

متحدہ عرب امارات نے سوڈان کے العبید میں شہریوں کے لیے 30 ملین امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد مختص کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کا موسم: ہلکی ہواؤں اور پرسکون سمندروں کے ساتھ درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا