ایران جنگ رکنے کی امید، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نیچے آ گئیں
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جلد جنگ بند ہونے کا بیان دیا تھا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے جاری کشیدگی کے جلد کم ہونے سے متعلق بیان قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ کروڈ کی قیمت 88 سینٹ کمی کے بعد 110.40 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 67 سینٹ سستا ہو کر 103.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے سرمایہ کاروں کو یہ تاثر دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تناؤ میں کمی آ سکتی ہے جس کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں وقتی سکون دیکھنے میں آیا۔
توانائی امور کے ماہر ایمریل جمیل نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ سفارتی پیش رفت نے مارکیٹ پر موجود دباؤ کو وقتی طور پر کم کیا تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
ان کے بقول اگر امریکا اور ایران کے درمیان کسی سمجھوتے کی راہ نکل بھی آتی ہے تو تیل کی سپلائی فوری طور پر معمول پر نہیں آئے گی اس لیے مستقبل میں قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ خارج از امکان نہیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیا تھا جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک ڈالر کی کمی دیکھی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے متعلق سفارتی سرگرمیاں اور جنگ بندی کی ممکنہ کوششیں آنے والے دنوں میں بھی عالمی تیل مارکیٹ کی سمت کا تعین کرتی رہیں گی۔
