امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے اختتام تک یہ فیصلہ برقرار رکھا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھا رہے ہیں جب تک ایران کی جانب سے کوئی واضح تجویز سامنے نہیں آتی۔ ان کے مطابق یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے فوج کو فوری حملے کے بجائے ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایات دی ہیں تاہم دیگر تمام معاملات کے لیے تیار رہنے کا بھی کہا گیا ہے۔
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے مؤخر کیے۔ ان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حملے اس لیے روکے گئے ہیں تاکہ ایران کی قیادت کو مذاکرات کے لیے موقع دیا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اس وقت اندرونی دباؤ کا شکار ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی توسیع کا انحصار ایران کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔ اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا دیگر اقدامات پر غور کرے گا۔
