ملک بھر کے کروڑوں گھریلو بجلی صارفین اضافی بوجھ کے لیے تیار ہوجائیں
حکومت کی 100 یونٹ تک کے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے اور 200 یونٹ پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز۔
اسلام آباد: ملک بھر کے کروڑوں گھریلو بجلی صارفین کو اضافی مالی بوجھ اٹھانا پڑسکتا ہے کیونکہ حکومت نے پہلی بار 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی ہے۔
پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی ٹیرف میں تبدیلی کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں دائر کی ہے جس کے تحت پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں کیٹیگریز شامل ہیں۔
درخواست کے مطابق پہلی بار ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لاگو کیے جائیں گے، حالانکہ اس وقت 300 یونٹ تک کے صارفین کسی فکسڈ چارج کے پابند نہیں ہیں۔
حکومت نے 100 یونٹ تک کے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے اور 200 یونٹ تک کے صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز لگانے کی تجویز دی ہے جب کہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے یہ چارجز مزید زیادہ رکھے گئے ہیں۔
درخواست میں زیادہ بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے فکسڈ چارجز میں رد و بدل بھی تجویز کیا گیا ہے، 300 سے 600 یونٹ تک فکسڈ چارجز میں اضافہ جب کہ 700 یونٹ سے زائد استعمال پر کمی کی درخواست شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے بنیادی ٹیرف میں کمی کی بھی تجویز دی ہے جس کے تحت 301 سے 400 یونٹ تک بجلی استعمال پر فی یونٹ ایک روپے 53 پیسے کمی کی درخواست کی گئی ہے۔
اسی طرح 500 یونٹ تک ایک روپے 25 پیسے، 600 یونٹ تک ایک روپے 40 پیسے، 700 یونٹ تک 91 پیسے اور 700 یونٹ سے زائد استعمال پر 49 پیسے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
درخواست میں کمرشل صارفین کے لیے فی یونٹ ایک روپے 15 پیسے اور صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ تک کمی کی بھی تجویز شامل ہے جس پر نیپرا سماعت کے بعد فیصلہ سنائے گا۔
