کینسر کو شکست دینے کے بعد میڈنسن کے رویّے میں واضح تبدیلی
میڈنسن کو ٹیسٹیکل کینسر کی تشخیص کے بعد گزشتہ آف سیزن میں نو ہفتوں کی کیموتھراپی سے گزرنا پڑا
آسٹریلوی کرکٹر نک میڈنسن نے کہا ہے کہ کینسر پر قابو پانے کے بعد ان کا کرکٹ کے بارے میں رویّہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب وہ بس کھیل کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں، چاہے انہیں دوبارہ قومی ٹیم میں موقع ملے یا نہ ملے۔
میڈنسن کو ٹیسٹیکل کینسر کی تشخیص کے بعد گزشتہ آف سیزن میں نو ہفتوں کی کیموتھراپی سے گزرنا پڑا، جس کے دوران کرکٹ ان کے ذہن سے بہت دور تھی۔
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ علاج کے دوران بستر سے اٹھنا، گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا بھی مشکل تھا۔
ان کا کہنا تھا، “میرا بیٹا صرف دو سال کا تھا اور کھیلنا چاہتا تھا، لیکن میرے پاس اتنی توانائی بھی نہیں تھی کہ اسے پلے گراؤنڈ تک لے جا سکوں۔”
مزید پڑھیں: کرکٹ آسٹریلیا نے سالانہ ایوارڈز تقریب ورچوئل طور پر منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا
2024–25 سیزن کے آغاز میں میڈنسن ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کی امید کر رہے تھے، لیکن اب وہ اپنی واپسی کا سفر بی بی ایل میں سڈنی تھنڈر کے ساتھ مکمل کر رہے ہیں۔
واپسی کے چوتھے میچ میں ہی انہوں نے میلبورن ری نیگیڈز کے خلاف جیت حاصل کی، اور پہلے وہ گریڈ کرکٹ میں ایسترن سبربز کے ساتھ فارم میں آئے۔
میڈنسن نے کہا: “یہ شاید کافی عرصے میں کرکٹ کھیلنے کا سب سے زیادہ مزے دار وقت ہے۔ چھ ماہ پہلے میدان پر واپس آنا میری سوچ سے بھی آگے تھا۔”
اگرچہ انہیں ابھی تک نیو ساؤتھ ویلز کی فرسٹ کلاس ٹیم میں موقع نہیں ملا اور وہ 34 سال کے ہیں، اس کے باوجود وہ اس بات سے پریشان نہیں ہیں کہ شاید ان کے تین ٹیسٹ میچز کے علاوہ مزید مواقع نہ ملیں۔
ان کے دوست اور ساتھی کرکٹر ایڈم زمپا، جنہوں نے ان کی بیماری کے دوران بھرپور مدد کی، نے کہا: “انہیں فٹ، صحت مند اور دوبارہ کرکٹ کھیلتے دیکھ کر میں واقعی بہت خوش ہوں۔”
