کراچی، شہر کے تمام بس اور انٹرسٹی بس ٹرمینلز سے تجاوزات ختم کرنے کا فیصلہ
بس ٹرمینلز کی زمین کی مالیت اربوں روپے ہے اور اس قیمتی اثاثے کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر کے تمام بس اور انٹر سٹی بس ٹرمینلز سے تجاوزات ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے تجاوزات کے خاتمے اور قبضہ شدہ اراضی واگزار کرانے کے لیے محکمہ انسدادِ تجاوزات کو باضابطہ احکامات جاری کر دیے ہیں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق شہر کے مختلف اضلاع میں 73 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی پر قبضہ ہے، جبکہ 28 بس اور انٹر سٹی بس ٹرمینلز کی زمین پر مختلف نوعیت کی تجاوزات قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بس ٹرمینلز کی زمین کی مالیت اربوں روپے ہے اور اس قیمتی اثاثے کو تجاوزات سے پاک کیا جائے گا۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مطابق ضلع غربی میں بس ٹرمینلز کی تعداد 21 ہے، جبکہ ضلع کورنگی، ملیر اور وسطی میں مجموعی طور پر 6 بس ٹرمینلز واقع ہیں۔ اسی طرح ضلع جنوبی میں ایک بس ٹرمینل موجود ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ اینٹی انکروچمنٹ کی مکمل معاونت حاصل کی جائے گی تاکہ تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے متعدد بس ٹرمینلز پر اسکول اور قبرستان قائم ہو چکے ہیں، جبکہ کئی ٹرمینلز لوگوں کے ذاتی استعمال میں بھی ہیں۔
ترجمان کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ماتحت انٹر سٹی اور انٹرا سٹی بس ٹرمینلز، آئل ٹرمینلز اور ٹرک اسٹینڈز کی مجموعی تعداد 30 ہے، جنہیں تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے مرحلہ وار آپریشن کیا جائے گا۔
