کراکس: وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، چین، فرانس اور نیویارک شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی کارروائی بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی آزادی پر حملہ ہے۔
چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرے اور وینزویلا کی خودمختاری و سلامتی کا احترام کیا جائے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ نے بھی امریکی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
فرانس نے واضح کیا کہ صدر کو ہٹانا اور وینزویلا کی آزادی کو نقصان پہنچانا غلط ہے، اور وینزویلا کا مستقبل صرف وہاں کے عوام طے کر سکتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ اور وینزویلا کی عبوری صدر کا ٹیلی فونک رابطہ
روسی وزیر خارجہ نے وینزویلا کی عبوری صدر سے ٹیلی فونک رابطے میں کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق روس چاہتا ہے کہ وینزویلا کی خودمختاری اور ایک آزاد ریاست کی حیثیت کا احترام کیا جائے اور کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا کی فوج نے ڈیلسی روڈریگیز کو عبوری صدر تسلیم کر لیا
روس نے زور دیا کہ تمام مسائل پرامن طریقے سے، بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں تاکہ علاقائی استحکام اور عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
پوپ لیو کا وینزویلا کی صورتحال پر اظہارِ تشویش
مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے وینزویلا میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کو ہر صورت ایک آزاد اور خودمختار ملک رہنا چاہیے۔
پوپ لیو کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کی تشویشناک صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کسی بھی حال میں وینزویلا کے عوام کا تحفظ کیا جائے۔
اسپین کی وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت
اسپین نے وینزویلا پر امریکی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اور اسپین امریکی مداخلت کو تسلیم نہیں کرتا۔
ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کا سیاسی مستقبل صرف اور صرف وینزویلا کے عوام کو خود طے کرنے کا حق ہے۔
وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے زور دیا کہ تمام فریقین اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پرامن حل کی جانب بڑھیں اور وینزویلا کی خودمختاری کا احترام کریں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا وینزویلا کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
ایرانی وزیر خارجہ نے وینزویلا کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی حملہ وینزویلا کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے وینزویلا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وینزویلا کے وزیر خارجہ نے یکجہتی اور حمایت پر ایرانی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا اپنے حقِ خودارادیت اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور کسی بیرونی دباؤ یا مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کا وینزویلا سے متعلق اگلے اقدامات پر بیان
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کا اگلا قدم وینزویلا کے دیگر حکام کے ایکشن اور فیصلوں پر منحصر ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ وینزویلا کے حکام کے پاس اپنی قوم کے لیے ایک منفرد اور تاریخی موقع موجود ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس سلسلے میں صورتحال کو نزدیک سے دیکھ رہا ہے اور وینزویلا کے حکام کے اقدامات کے مطابق اپنی پالیسی مرتب کرے گا۔
ڈیلسی کو امریکی اثر و رسوخ کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، امریکا کا انتباہ
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کی نائب صدر کے ساتھ انتظامی امور پر بات چیت کر رہے ہیں۔
انٹرویو میں کرسٹی نوم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ قیادت کریں یا پھر راستے سے ہٹ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا ڈیلسی روڈریگیز کو امریکی اثر و رسوخ کمزور کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ نے مزید کہا کہ اس معاملے میں عدالتی عمل کو دیکھا جانا چاہیے اور اسے مکمل ہونے دیا جانا ضروری ہے۔
