گرفتار دہشتگرد ساجد اللہ عرف شینا کے بیان کے مطابق اسلام آباد کچہری پر خودکش حملے کی پوری منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔
تفصیلات کچھ یوں ہیں:
ساجد اللہ سب سے پہلے کنڑ، افغانستان گیا جہاں اس کی ملاقات حمزہ سے ہوئی، ایک مہینے تک کنڑ میں رہ کر ٹریننگ مکمل کی، پھر پاکستان واپس آیا۔
داداللہ، جو تحریک طالبان افغانستان کا کمانڈر تھا، نے ساجد اللہ اور محمد زالی کو تربیت دی اور حملے کی پلاننگ کے سلسلے میں ہدایات دیں۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی کا گڑھ افغانستان؛ خطے میں امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ
بعد ازاں دونوں نے جلال آباد، افغانستان کا دورہ کیا اور پھر کابل پہنچے، جہاں ہوٹل میں کھانا کھایا اور داداللہ کے ساتھ رابطے کیے۔
داداللہ نے حملے کے لیے خودکش جیکٹ استعمال کرنے کی ہدایات دی اور ساجد اللہ نے وعدہ کیا کہ تصاویر بھی بھیجے گا۔
خودکش جیکٹ کا انتظام
واپس پاکستان پہنچنے پر ساجد اللہ نے اخون بابا قبرستان سے خودکش جیکٹ اٹھائی، خودکش جیکٹ اسلام آباد پہنچا کر ایک نالے میں چھپا دی گئی۔
ساجد اللہ نے شاہد کو بتایا کہ جیکٹ لے آیا ہے، شاہد نے کہا کہ دوکان پر رکھ دوں، چونکہ ساجد اللہ کے پاس جگہ نہیں تھی، اس لیے اس نے خودکش حملہ آور کو شاہ منیر کے پاس بھیجا۔
مزید پڑھیں: افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کے ناقابلِ تردید شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے
حملہ آور کی رہائش اور تیاری
شاہ منیر کے بیٹے محمد زالی نے 4 ہزار روپے کرایہ پر کمرہ لیا جہاں حملہ آور ٹھہرا،20–25 دن بعد ساجد اللہ نے حملہ آور کو کہا کہ اب اپنے لیے جگہ تلاش کر لے۔
25 دن بعد حملہ آور نے ساجد اللہ کو بتایا کہ جی الیون کچہری کے قریب جگہ دیکھ لی ہے، شاہ منیر اور محمد زالی نے ساجد اللہ کے ساتھ مل کر حملہ آور کو خودکش جیکٹ پہنائی۔
حملہ آور موٹر بائیک پر بیٹھ کر جی الیون کچہری کی طرف روانہ ہوا، لیکن سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے اصل ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
یہ بیان کچہری حملے کے نیٹ ورک اور منصوبہ بندی کے افغانستان سے تعلق کو واضح کرتا ہے اور دہشتگردوں کے بین الاقوامی رابطوں کی تصدیق کرتا ہے۔
