یوکرین کا فرانسیسی ساختہ میراج لڑاکا طیارہ ایک مشن کے دوران گر کر تباہ ہوگیا، جبکہ پائلٹ اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بدھ کی صبح اپنے خطاب میں لڑاکا طیارے کے تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ نے بروقت طیارے سے نکل کر اپنی جان بچالی۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے ایک انتہائی موثر اور طاقتور میراج طیارہ کھودیا ہے، جو فرانس سے حاصل کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: شام کے سفارت خانے کا ایئر کموڈور (ر) ستار علوی کیلئے تمغہ شجاعت کا اعزاز
زیلنسکی نے واضح کیا کہ یہ طیارہ روسی افواج نے نہیں گرایا بلکہ یہ ایک تکنیکی خرابی کے باعث تباہ ہوا۔
یوکرینی فضائیہ کا بیان
Advertisement
یوکرینی فضائیہ کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام ایک فضائی مشن کے دوران پیش آیا، پائلٹ نے پرواز کے دوران پرواز کنٹرولر کو ایوی ایشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی۔ اس کے بعد پائلٹ نے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی سے ایجیکٹ کیا۔
مزید پڑھیں: رافیل کے شکاری ’’کوبراز‘‘ کو سالگرہ مبارک؛ پاک فضائیہ کے نمبر 15 اسکواڈرن کو 69 برس مکمل
فرانس کی جانب سے فراہم کردہ طیارے
فرانس نے رواں سال کے آغاز میں یوکرین کو سپرسونک میراج 2000 لڑاکا طیارے فراہم کرنا شروع کیے تھے تاکہ یوکرین روسی حملوں کے خلاف اپنی فضائی حدود کا دفاع کر سکے۔
ان طیاروں کو یوکرینی ضروریات کے مطابق روسی جیمنگ سے نمٹنے کے لیے تکنیکی طور پر تبدیل کیا گیا تھا، اور یوکرینی پائلٹس و مکینکس کو ان کی تربیت مشرقی فرانس میں فراہم کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: جنگی جنون کا شکار بھارت کی فضائیہ نااہلی اور ناقص تربیت کا شاہکار
Advertisement
یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیت کو دھچکا
یہ واقعہ یوکرینی فضائیہ کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، کیونکہ ملک پہلے ہی فضائی دفاع کے فقدان کا شکار ہے، خاص طور پر روسی میزائل و ڈرون حملوں کے خلاف۔
یوکرین مسلسل جدید طیاروں، دفاعی نظام اور مغربی حمایت کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی فضائی حدود محفوظ بنا سکے۔
مزید پڑھیں: بھارتی فوجی طیارے اڑنا بھول گئے، دو طیارے آپس میں ٹکرا کر تباہ
میراج طیارے کی اہمیت
میراج 2000 طیارہ فرانس کا تیار کردہ سپرسونک ملٹی رول جیٹ ہے جو تیزی سے حملہ اور فضائی دفاع دونوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا استعمال یوکرین کے لیے نیٹو معیار کے ہتھیاروں کی طرف منتقلی کا ایک اہم قدم سمجھا جاتا ہے۔
Advertisement
یہ پہلا نقصان اگرچہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا، لیکن یہ واقعہ مغربی ہتھیاروں کے میدانِ جنگ میں مسلسل دباؤ اور ان کے استعمال کے خطرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
Advertisement