جسم میں دو طرح کے کولیسٹرول ہوتے ہیں ایک اچھا کولیسٹرول جسے ہائی ڈینسٹی لائپو پروٹین (ایچ ڈی ایل) کہا جاتا ہے اور دوسرا برا کولیسٹرول جسے لو ڈینسٹی لائپو پروٹین (ایل ڈی ایل) کہا جاتا ہے۔
یہ دونوں ہی جسم کے لیے ضروری ہیں تاہم ’’خراب‘‘ کولیسٹرول کی زائد مقدار شریانوں میں جمع ہوکر امرض قلب ہائی بلڈ پریشر اور فالج کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے غذا کا کردار انتہائی اہم ہے درج ذیل غذائیں کولیسٹرول بڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
ٹرانس فیٹس
مصنوعی ٹرانس فیٹس کولیسٹرول بڑھانے میں اہم کردارادا کرتے ہیں یہ برے کولیسٹرول ایل ڈی ایل کو بڑھا کر امراض قلب کا خطرہ بڑھاتے ہیں ان غذاؤں میں مائیکروویو پاپ کارن، بسکٹ اور پیک شدہ اسنیکس شامل ہیں۔
میٹھی غذائیں
میٹھی غذاؤں کے استعمال سے جگر مزید ایل ڈی ایل بناتا ہے اوراس طرح ’’اچھے‘‘ کولیسٹرول مقدار کم ہونے لگتی ہے، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور میٹھے جوس اس کی بڑی مثالیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کولیسٹرول کو کم کرنے کیلئے اِن مشروبات کا استعمال شروع کردیں
سفید آٹا اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس
سفید ڈبل روٹی، سفید چاول اور عام پاستا فائبر سے خالی ہوتے ہیں اور جسم میں جا کر چینی کی طرح اثر کرتے ہیں جس سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے۔
زیادہ سیچوریٹڈ فیٹ والی غذائیں
چکنائی سے بھرپور گوشت، پراسیسڈ میٹ، فاسٹ فوڈ اور فرائیڈ آئٹمز برے کولیسٹرول میں اضافہ کرتے ہیں۔
پراسیسڈ اور ریڈ میٹ
زیادہ مقدار میں سرخ گوشت اور پراسیسڈ میٹ کا استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے خاص طور پر جب روزانہ استعمال کیا جائے۔
تلی ہوئی غذائیں
گہرے تیل میں تلی ہوئی اشیاء جیسے فرائیڈ چکن، ڈونٹس اور فرائیڈ اسنیکس نہ صرف چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں بلکہ نقصان دہ ٹرانس فیٹس بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
میٹھےسیریل
بہت سے تیار شدہ سیریلز میں چینی اور ریفائنڈ کاربز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ کولیسٹرول اور بلڈ شوگر دونوں بڑھا سکتے ہیں۔
ناریل اور پام آئل
اگرچہ بعض لوگ ناریل کو صحت بخش سمجھتے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق ناریل کا تیل سیچوریٹڈ فیٹ سے بھرپور ہوتا ہے اور ایل ڈی ایل کولیسٹرول بڑھا سکتا ہے۔
فاسٹ فوڈ اور پراسیسڈ غذائیں
فاسٹ فوڈ میں عام طور پر غیر صحت بخش چکنائیاں، زیادہ نمک اور چینی شامل ہوتی ہیں جو کولیسٹرول لیول کو متاثر کرتی ہیں۔
