امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر ایران پر ممکنہ حملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا سے درخواست کی کہ ایران پر حملہ اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک ایرانی قیادت کسی متفقہ تجویز پر نہیں پہنچ جاتی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس درخواست کے بعد امریکی فوج کو فوری طور پر حملہ نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے تاہم ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی اور ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیاری جاری رہے گی۔
امریکی صدر نے جنگ بندی میں توسیع کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجویز پیش نہیں کی جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔
یاد رہے کہ ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور وعدوں کے باوجود بحری ناکہ بندی ختم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔
اس صورتحال کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور وہ چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔
ٹرمپ کے مطابق انہیں توقع ہے کہ ایرانی قیادت جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی وفد سے ملاقات کرے گی جس کے نتیجے میں ایک بڑے معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں مذاکرات میں شرکت پر زور دیا۔
بعدازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، خصوصاً ایرانی بحری جہاز کی مبینہ ضبطی اور ناکہ بندی برقرار رکھنے کے اقدامات کے بعد۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی دھمکیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور امریکا مذاکرات میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہا۔
واضح رہے کہ 20 روز قبل پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا۔
