امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی سخت اور دھماکہ خیز اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کر رہا ہے، جہاں سے گزرنے والے ہر جہاز کو روکا اور چیک کیا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے عالمی آبی گزرگاہ کھولنے کا وعدہ توڑ دیا اور مبینہ طور پر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا کر دنیا کو خوف اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو عالمی بھتہ خوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک اس دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ ہر اُس جہاز کو روکنے، تلاشی لینے اور ممکنہ طور پر روکنے کا اختیار رکھے گی جس نے ایران کو کسی بھی قسم کی ٹول فیس ادا کی ہو۔ ان کے مطابق ایسے جہازوں کو کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فورسز آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگوں کو بھی تباہ کریں گی، اور اگر کسی ایرانی فورس نے امریکی یا کسی پرامن جہاز پر فائرنگ کی تو اس کا “شدید اور تباہ کن جواب” دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس ناکہ بندی میں شامل ہوں گے اور ایران کو اس “غیر قانونی اقدام” سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیریڈ کشنر نے اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات پر بریفنگ دی۔
انہوں نے پاکستان کی قیادت، خصوصاً عاصم منیر اور شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ہونے والی سفارتکاری نے ایک ممکنہ بڑی جنگ کو روک دیا اور لاکھوں جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے، جن میں کئی نکات پر اتفاق ہوا، لیکن سب سے اہم مسئلہ جوہری پروگرام حل نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی صورت اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے کوئی بھی قدم کیوں نہ اٹھانا پڑے۔”
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی طاقت شدید کمزور ہو چکی ہے، اس کی بحریہ اور فضائیہ تقریباً ختم ہو چکی ہیں جبکہ دفاعی نظام بھی غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے صورتحال کو ختم نہ کیا تو امریکہ “مکمل طور پر تیار” ہے اور باقی ماندہ اہداف کو بھی ختم کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر امریکہ واقعی آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کرتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس ہوں گے، خصوصاً تیل کی ترسیل، عالمی معیشت اور خطے کے امن پر اس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔