انڈے کا شمار دنیا کی ان چند متنازعہ غذاؤں میں ہوتا ہے جنہیں کھانے کے سے قبل انسان ضرور یہ سوچتا ہے کہ اسے کھانے کے فائدے زیادہ ہیں یا نقصانات۔
اسی طرح انڈے کی سفیدی اور زردی پر بھی اپنے غذائیت کے اعتبار سے ہمیشہ ہی زیر بحث رہتی ہے۔
اگر آپ کبھی اپنی غذا میں میکرونیوٹرینٹس (پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، چکنائی) کو ٹریک کرتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ آپ کو پروٹین کم مل رہا ہے تو آپ نے ضرور سوچا ہوگا کہ انڈے کی سفیدی اور پورے انڈے کی غذائیت میں کیا فرق ہے۔
انڈے کی سفیدی صاف اور سبزی خور پروٹین کا ایک اچھا ذریعہ ہے لیکن کیا واقعی آپ کو پورا انڈا چھوڑ دینا چاہیے؟ آئیے جانتے ہیں کہ ایک رجسٹرڈ ڈائٹیشین اس بارے میں کیا کہتی ہیں اور کیا آپ کو پورا انڈا کھانا چاہیے۔
پورے انڈے کی غذائیت
انڈا دنیا کی سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور غذاؤں میں شامل ہے بشرطیکہ آپ پورا انڈا کھائیں غذائیت سے بھرپور ہونے کا مطلب ہے کہ کم کیلوریز میں زیادہ غذائی اجزاء حاصل ہوں۔
انڈے کی سفیدی زیادہ تر پانی پر مشتمل ہوتی ہے اس میں تقریباً 90 فیصد پانی 10 فیصد پروٹین ہوتا ہے۔
ماہر غذائیت کے مطابق پورے انڈے میں زیادہ تر پروٹین سفیدی سے ہی آتا ہے اور یہ مکمل پروٹین ہے یعنی اس میں تمام 9 ضروری امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو خاص طور پر سبزی خور افراد کے لیے اہم ہیں۔
ایک بڑے انڈے میں تقریباً 6 گرام پروٹین اور70 کیلوریز ہوتی ہے اس کے علاوہ اس میں 13 ضروری وٹامنز اور منرلز بھی ہوتے ہیں۔
زردی کی غذائیت
اگرچہ زردی میں تقریباً 5 گرام چکنائی اور 211 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے لیکن اس میں اہم غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں جیسے وٹامن بی 12، رائبوفلیون، وٹامن اے، ڈی اور کے۔
اس کے علاوہ انڈے میں لُوٹین اور زیکسانتھین ہوتے جو آنکھوں کی صحت کے لیے اہم ہیں اسی طرح کولین جو یادداشت اور دماغی کارکردگی بہتربناتے ہیں فولیٹ جو حمل کے دوران بچے کی نشوونما میں مدد دیتے ہیں بایوٹن جو بال، جلد اور ناخن کے لیے ضروری ہیں اس طرح زردی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
انڈے کی سفیدی کے فوائد
دل کی بہتر صحت
کچھ تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو دل یا کولیسٹرول کے مسائل ہوں انہیں پورے انڈے کم کھانے چاہئیں اس لیے بعض ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ایسے افراد صرف انڈے کی سفیدی استعمال کریں کیونکہ اس میں کولیسٹرول نہیں ہوتا۔
تاہم، دوسری تحقیق کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے لیے روزانہ ایک انڈا نقصان دہ نہیں ہوتا۔
پٹھوں کی مرمت
آپ نے دیکھا ہوگا کہ انڈے کی سفیدی اکثر ورزش کے بعد استعمال کی جاتی ہے۔ اگرچہ پورا انڈا زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن سفیدی بھی بہترین پروٹین فراہم کرتی ہے جو پٹھوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے ضروری ہے۔
اس میں موجود تمام ضروری امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو جسم کے لیے اہم ہیں یہ پٹھوں کی نشوونما، مرمت اور کارکردگی میں مدد دیتے ہیں۔
توانائی میں اضافہ
انڈے کی سفیدی میں بی وٹامنز خاص طور پر رائبوفلیون ہوتے ہیں جو جسم میں توانائی پیدا کرنے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ جسم کو خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
انڈے کی سفیدی کے نقصانات
غذائی اجزاء کی کمی
صرف سفیدی کھانے سے آپ زردی میں موجود اہم وٹامنز اور منرلز سے محروم رہ سکتے ہیں ماہرین کے مطابق صرف سفیدی کھانا مکمل غذائیت فراہم نہیں کرتا۔
پیٹ بھرنے کا کم احساس
صرف پروٹین لینے سے کھانے کے بعد مکمل تسکین محسوس نہیں ہوتی۔
کولیسٹرول کا مسئلہ
اگرچہ زردی میں کولیسٹرول ہوتا ہے لیکن تحقیق کے مطابق جسم میں کولیسٹرول بڑھانے میں زیادہ کردار سیچوریٹڈ فیٹ کا ہوتا ہے نہ کہ خوراک میں موجود کولیسٹرول کا۔
اس کا مطلب ہے کہ دل کے مریض بھی متوازن غذا کے ساتھ پورا انڈا کھا سکتے ہیں۔
اچھے کولیسٹرول میں اضافہ
ماضی میں کی اجنے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پورا انڈا کھانے سے جسم میں اچھا کولیسٹرول جسے ایچ ڈی ایل کہا جاتا ہے میں اضافہ ہوتا ہے۔
انسولین ریزسٹنس کم ہو سکتا ہے تاہم صرف سفیدی کھانے سے یہ فوائد حاصل نہیں ہوتے۔
الرجی کا امکان
کچھ لوگوں کو انڈے کی سفیدی سے الرجی ہو سکتی ہے اور یہ الرجی زردی کے مقابلے میں زیادہ عام ہے۔